سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 177
سيرة النبي علي صلى الله 162 جلد 7 والی لکھا ہے مگر بادشاہ نے کہا یہ عقل کے خلاف ہے کہ خط پڑھنے سے پہلے پھاڑ دیا جائے اور یہ جو اُس نے مجھے روم کا والی لکھا ہے یہ درست ہے آخر مالک تو خدا ہی ہے میں والی ہی ہوں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا روم کے بادشاہ نے جو طریق اختیار کیا ہے اس کی وجہ سے اس کی حکومت بچا لی جائے گی اور اس کی اولاد دیر تک حکومت کرتی رہے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بعد کی جنگوں میں گو بہت سا ملک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسری پیشگوئی کے ما تحت روم کے بادشاہ کے ہاتھ سے چھینا گیا مگر اس واقعہ کے چھ سو سال بعد تک اس کے خاندان کی حکومت قسطنطنیہ میں قائم رہی ۔ روم کی حکومت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط بہت دیر تک محفوظ رہا۔ چنانچہ بادشاہ منصور قلادون کے بعض سفیر ایک دفعہ بادشاہ روم کے پاس گئے تو بادشاہ نے ان کو دکھانے کے لئے ایک صندوقچہ منگوایا اور کہا میرے ایک دادا کے نام تمہارے رسول کا ایک خط آیا تھا جو آج تک ہمارے پاس محفوظ ہے۔ فارس کے بادشاہ کے نام خط رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط فارس کے بادشاہ کی طرف لکھا تھا وہ عبداللہ بن حذافہ کی معرفت بھجوایا گیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے :۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُّحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى كِسْرَى عَظِيمِ الْفَارِسِ - سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَآمَنَ بِاللَّهِ، وَرَسُوْلِهِ، وَشَهِدَ أن لَّا إِلهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، وَ اَدْعُوكَ بِدَعَايَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ فَإِنِّي أَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً لانْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا، وَيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِرِينَ، أَسْلِمُ تَسْلَمُ، فَإِنْ ابَيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْمَجُوسِ 155 - یعنی اللہ کا نام لے کر جو بے انتہا کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے یہ