سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 176
سيرة النبي علي صلى الله 161 جلد 7 عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، اَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي اَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلامِ أَسْلِمُ تَسْلَمُ يُؤْتِكَ اللهُ اَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ، وَ يَا أَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَاباً مِّنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ 154 یعنی یہ خط محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول کی طرف سے بادشاہ ہرقل کی طرف لکھا جاتا ہے ۔ جو شخص بھی خدا کی ہدایت کے پیچھے چلے اُس پر خدا کی سلامتیاں نازل ہوں ۔ اس کے بعد اے بادشاہ! میں تجھے اسلام کی دعوت پیش کرتا ہوں (یعنی خدائے واحد اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ) اے بادشاہ! تو مسلمان ہو جا تو خدا تجھے تمام فتنوں سے بچالے گا اور تجھے دہرا اجر دے گا ۔ ( یعنی عیسی پر ایمان لانے کا بھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا بھی ) لیکن اگر تو نے اس بات کے ماننے سے انکار کر دیا تو صرف تیری ہی جان کا گناہ تجھ پر نہیں ہوگا بلکہ تیری رعایا کے ایمان نہ لانے کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا ۔ ( آخر میں قرآن شریف کی آیت درج تھی جس کے معنی یہ ہیں کہ ) اے اہل کتاب! آؤ اس بات پر تو اکٹھے ہو جائیں جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ہم خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اُس کا شریک نہ بنائیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی بندے کو بھی اتنی عزت نہ دیں کہ وہ خدائی صفات سے متصف کیا جانے لگے ۔ اگر اہل کتاب اس دعوت اتحاد کو قبول نہ کریں تو اے محمد رسول اللہ اور ان کے ساتھیو ! ان سے کہہ دو کہ ہم تو خدا تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں ۔ بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ جب یہ خط بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو در بایوں میں سے بعض نے کہا کہ اس خط کو پھاڑ کر پھینک دینا چاہئے کیونکہ اس میں بادشاہ کی ہتک کی گئی ہے اور خط کے اوپر بادشاہ روم نہیں لکھا گیا بلکہ صاحب الروم یعنی روم کا