سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 175

له صلى الله سيرة ابي عليه 160 جلد 7 تک وہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص اُس کے دین کو نا پسند کر کے بھی مرتد ہوتا ہے تو تم نے کہا نہیں اور ایسا ہی انبیاء کی جماعت کا حال ہوتا ہے کسی اور وجہ سے کوئی شخص نکلے تو نکلے دین کو برا سمجھ کر نہیں نکلتا ۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تمہارے درمیان کبھی لڑائی بھی ہوئی ہے اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ تو تم نے کہا لڑائی ہمارے درمیان گھاٹ کے ڈول کی طرح ہے اور نبیوں کا یہی حال ہے۔ شروع شروع میں اُن کی جماعتوں پر مصیبتیں آتی ہیں لیکن آخر وہی جیتے ہیں ۔ پھر میں نے تجھ سے پوچھا وہ تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے۔ تو تم نے جواب دیا کہ وہ نماز کی اور سچائی کی اور پاکدامنی اور وفائے عہد کی اور امانت دار ہونے کی تعلیم دیتا ہے اور اسی طرح میں نے تجھ سے پوچھا کہ کیا وہ دھوکا بازی بھی کرتا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں اور یہ طور و طریق تو ہمیشہ نیک لوگوں کے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ وہ نبوت کے دعوی میں سچا ہے اور میرا خود یہ خیال تھا کہ اس زمانہ میں ” وہ نبی آنے والا ہے مگر میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ عربوں میں پیدا ہونے والا ہے اور جو جواب تو نے مجھے دیئے ہیں اگر وہ سچے ہیں تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ وہ ان ممالک پر ضرور قابض ہو جائے گا ۔ اس کی ان باتوں پر اس کے درباریوں میں جوش پیدا ہو گیا اور اُنہوں نے کہا تم مسیحی ہوتے ہوئے ایک غیر قوم کے آدمی کی صداقت کا اقرار کر رہے ہو اور دربار میں احتجاج کی آوازیں بلند ہونے لگیں ۔ اس پر دربار کے افسروں نے جلدی سے ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں کو دربار سے باہر نکال وو 153 دیا صلى الله انحضرت ﷺ کے خط بنام ہر قل کا مضمون می لکھا تھا اس کی عبارت یہ تھی :۔ یہ خط جو رسہ یہ خط جو رسول کریم صلى الله عروسة علی نے قیصر کے نام بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ