سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 174
سيرة ة النبي علي صلى الله 159 جلد 7 جواب: ابوسفیان نے کہا وہ کہتا ہے کہ ایک خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ہمارے باپ دادا جن بتوں کی پوجا کرتے تھے وہ ان کی پوجا سے روکتا ہے اور ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم خدا کی عبادتیں کریں اور سچ بولا کریں اور برے اور گندے کاموں سے بچا کریں اور ہمیں یہ کہتا ہے کہ کہ مروت اور وفائے عہد سے کام لیا کریں اور امانتوں کو ادا کیا کریں 152۔ صلى الله قیصر روم کا نتیجہ کہ آنحضرت صادق نبی ہیں اس پر قیصر نے کہا علی سنو! میں نے تم سے یہ سوال کیا تھا کہ اس کی نسب کیسی ہے تو تم نے کہا وہ خاندانی لحاظ سے اچھا ہے اور انبیاء ہمیشہ ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس سے پہلے بھی کسی شخص نے ایسا دعویٰ کیا ہے تو تم نے کہا نہیں ۔ یہ سوال میں نے اس لئے کیا تھا کہ اگر قریب زمانہ میں اس سے پہلے کسی شخص نے ایسا دعوی کیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ بھی اُس کی نقل کر رہا ہے۔ اور پھر میں نے تم سے پوچھا کہ اس دعوٹی سے پہلے اس پر جھوٹ کا بھی الزام لگایا گیا ہے اور تم نے کہا نہیں تو میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص انسانوں کے متعلق جھوٹ نہیں بولتا وہ خدا تعالیٰ کے متعلق بھی جھوٹ نہیں بول سکتا ۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی تھا تو تم نے کہا نہیں ۔ تو میں نے سمجھ لیا کہ اس کے دعوی کی یہ وجہ نہیں کہ اس بہانہ سے اپنے باپ دادا کا ملک واپس لینا چاہتا ہے۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا جابر اور ز بر دست لوگ اس کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں یا کمزور اور مسکین طبع لوگ ۔ تو تم نے جواب دیا کہ کمزور اور مسکین طبع لوگ ۔ تو میں نے سوچا کہ تمام انبیاء کی جماعت میں اکثر مسکین طبع اور غریب ہی داخل ہوا کرتے ہیں نہ کہ جابر اور متکبر لوگ ۔ پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں ۔ تو تم نے کہا وہ بڑھتے ہیں اور یہی حالت نبیوں کی جماعت کی ہوا کرتی ہے جب تک وہ کمال کو نہیں پہنچ جاتی اُس وقت