سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 173

صلى الله سيرة ة النبي علي 158 جلد 7 جواب: ابوسفیان نے جواب دیا ہم نے اس کی عقل اور رائے میں کبھی کوئی عیب نہیں دیکھا۔ سوال: پھر قیصر نے پوچھا کیا بڑے بڑے جابر اور قوت والے لوگ اس کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں یا غریب اور مسکین لوگ؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا غریب اور مسکین اور نو جوان لوگ ۔ سوال : پھر اس نے پوچھا کیا وہ بڑھتے ہیں یا گھٹتے ہیں؟ جواب : ابوسفیان نے جواب دیا بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ سوال: پھر قیصر نے پوچھا کیا اُن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اُس کے دین کو برا سمجھ کے مرید ہوئے ہیں ۔ جواب : ابوسفیان نے کہا نہیں ۔ سوال : پھر اس نے پوچھا کیا اس نے کبھی اپنے عہد کو تو ڑا بھی ہے؟ ا ہے ؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا آج تک تو نہیں مگر اب ہم نے ایک نیا عہد باندھا ہے دیکھیں اب وہ اس کے متعلق کیا کرتا ہے ۔ سوال: پھر اس نے پوچھا کیا تمہارے اور اس کے درمیان کبھی جنگ بھی ہوئی ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا ہاں ۔ سوال : اس پر بادشاہ نے پوچھا پھر ان لڑائیوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جواب: ابوسفیان نے جواب دیا گھاٹ کے ڈولوں والا حال ہے۔ کبھی ہمارے ہمار ہاتھ میں ڈول ہوتا ہے کبھی اس کے ہاتھ ڈول ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ بدر کی لڑائی ہوئی اور میں اس میں شامل نہیں تھا اس لئے وہ غالب آگیا تھا اور دوسری دفعہ اُحد میں لڑائی ہوئی اُس وقت میں کمانڈر تھا۔ ہم نے ان کے خوب پیٹ کاٹے اور اُن کے کان کاٹے ، ان کے ناک کاٹے ۔ سوال: پھر قیصر نے پوچھا وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟