سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 172
سيرة النبي علي صلى الله 157 جلد 7 دحیہ کلبی گورنر بصرہ کے پاس خط لے کر پہنچے تو اتفاقاً انہی دنوں قیصر شام کے دورہ پر رض آیا ہوا تھا۔ چنانچہ گورنر بصرہ نے دحیہ کو اس کے پاس بھیجوا دیا۔ جب دحیہ گورنر بصرہ کی معرفت قیصر کے پاس پہنچے تو دربار کے افسروں نے اُن سے کہا کہ قیصر کی خدمت میں حاضر ہونے والے ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ قیصر کو سجدہ کرے ۔ دحیہ رض نے انکار کیا اور کہا کہ ہم مسلمان کسی انسان کو سجدہ نہیں کرتے چنانچہ بغیر سجدہ کرنے کے آپ اُس کے سامنے گئے اور خط پیش کیا۔ بادشاہ نے ترجمان سے خط پڑھوایا اور پھر حکم دیا کہ کوئی عرب کا قافلہ آیا ہو تو اُن لوگوں کو پیش کرو تا کہ میں اس شخص کے حالات اُن سے دریافت کروں ۔ اتفاقاً ابوسفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ اُس وقت وہاں آیا ہوا تھا۔ دربار کے افسر ابو سفیان کو بادشاہ کی خدمت میں لے گئے ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ ابو سفیان کو سب سے آگے کھڑا کیا جائے اور اس کے ساتھیوں کو اس کے پیچھے کھڑا کیا جائے اور ہدایت کی کہ اگر ابوسفیان کسی بات میں جھوٹ بولے تو اس کے ساتھی اس کی فوراً تردید کریں ۔ پھر اس نے ابوسفیان سے سوال کیا کہ :۔ سوال : یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور جس کا خط میرے پاس آیا ہے کیا تم اس کو جانتے ہو اس کا خاندان کیسا ہے؟ جواب : ابوسفیان نے کہا وہ اچھے خاندان کا ہے اور میرے رشتہ داروں میں سے ہے۔ سوال: پھر اُس نے پوچھا کیا ایسا دعویٰ عرب میں پہلے بھی کسی شخص نے کیا ہے؟ جواب : تو ابوسفیان نے جواب دیا نہیں ۔ سوال: پھر اُس نے پوچھا کیا تم دعوئی سے پہلے اُس پر جھوٹ کا الزام لگایا کرتے تھے؟ اسے جواب : ابوسفیان نے کہا نہیں ۔ ۔ سوال: پھر اس نے پوچھا کیا اس کے باپ دادوں میں سے کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ جواب : ابوسفیان نے کہا نہیں ۔ سوال: پھر بادشاہ نے پوچھا اس کی عقل اور اس کی رائے کیسی ہے؟