سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 171
صلى الله سيرة النبي علي 156 جلد 7 شکایت کی تو آپ نے فرمایا ہم نے تمہارا آدمی تمہارے حوالے کر دیا تھا ہم اس بات کے ذمہ دار نہیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ہم اُس کو پکڑ کر دوبارہ تمہارے سپرد کو کر دیں 149 ۔ اس کے تھوڑے دنوں بعد ایک عورت بھاگ کر مدینہ پہنچی ۔ اس کے رشتہ داروں نے مدینہ پہنچ کر اُسے واپس بھجوانے کا مطالبہ کیا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاہدہ میں مردوں کی شرط ہے عورتوں کی شرط نہیں اس لئے ہم عورت کو واپس نہیں کریں گے 150 ۔ بادشاہوں کے نام خطوط مدینہ تشریف لے آنے کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ آپ اپنی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں جب آپ نے اپنے اس ارادہ کا صحابہؓ سے ذکر کیا تو بعض صحابہ نے جو بادشاہی درباروں سے واقف تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا يَا رَسُولَ الله ! بادشاہ بغیر مہر کے خط نہیں لیتے ۔ اس پر آپ نے ایک مہر بنوائی جس پر محمد رسول اللہ کے الفاظ کھدوائے اور اللہ تعالیٰ کے ادب کے طور پر آپ نے دو دو سب سے اوپر اللہ کا لفظ لکھوا دیا۔ نیچے ”رسول“ کا اور پھر نیچے ”محمد“ کا 151۔ مختلف محرم 628ء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خط لے کر مختلف صحابہؓ ممالک کی طرف روانہ ہو گئے ۔ ان میں سے ایک خط قیصر روما کے نام تھا اور ایک خط ایران کے بادشاہ کی طرف تھا۔ ایک خط مصر کے بادشاہ کی طرف تھا جو قیصر کے ماتحت تھا۔ ایک خط نجاشی کی طرف تھا جو حبشہ کا بادشاہ تھا۔ اسی طرح بعض اور بادشاہوں کی طرف آپ نے خطوط لکھے ۔ وحیه رض قیصر روم ہرقل کے نام خط قیصر روما کا خط دحیہ کلبی صحابی کے ہاتھ بھیجا گیا اور آپ نے اُسے ہدایت کی تھی کہ پہلے وہ بصرہ کے گورنر کے پاس جائے جو نسلاً عرب تھا اور اس کی معرفت قیصر کو خط پہنچائے ۔ جب