سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 179
سيرة النبي علي صلى الله 164 جلد 7 ہے تو فوراً اس کی طرف دو آدمی بھیج جو اُس کو پکڑ کر میری خدمت میں حاضر کریں۔ اس پر باذان نے جو اُس وقت کسری کی طرف سے یمن کا گورنر تھا ایک فوجی افسر اور وقت سے کا ایک سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھجوائے اور ایک خط بھی آپ کی طرف لکھا کہ آپ اس خط کے ملتے ہی فوراً ان لوگوں کے ساتھ کسری کے دربار میں حاضر ہو جائیں۔ وہ افسر پہلے مکہ کی طرف گیا۔ طائف کے قریب پہنچ کر اُسے معلوم ہوا کہ آپ مدینہ میں رہتے ہیں چنانچہ وہ وہاں سے مدینہ گیا۔ مدینہ پہنچ کر اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ کسری نے باذان گورنر یمن کو حکم دیا ہے کہ آپ کو پکڑ کر اُس کی خدمت میں حاضر کیا جائے ۔ اگر آپ اس حکم کا انکار کریں گے تو وہ آپ کو بھی ہلاک کر دے گا اور آپ کی قوم کو بھی ہلاک کر دے گا اور آپ کے ملک کو برباد کر دے گا اس لئے آپ ضرور ہمارے ساتھ چلیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی بات سن کر فرمایا اچھا کل پھر تم مجھے ملنا۔ رات کو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور خدائے ذوالجلال نے آپ کو خبر دی کہ کسری کی گستاخی کی سزا میں ہم نے اس کے بیٹے نے آپ کو خبر دی کہ کسری کی گستاخی کی سزا میں ہم نے اس کے کو اُس پر مسلط کر دیا ہے۔ چنانچہ وہ اُسی سال جمادی الاولی کی دسویں تاریخ پیر کے دن اس کو قتل کر دے گا اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا آج کی رات اس نے اُسے قتل کر دیا ہے ممکن ہے وہ رات وہی دس جمادی الاولی کی رات ہو۔ جب صبح ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دونوں کو بلایا اور اُن کو اس پیشگوئی کی خبر دی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باذان کی طرف خط لکھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ کسری فلاں تاریخ فلاں مہینے قتل کر دیا جائے گا۔ جب یہ خط یمن کے گورنر کو پہنچا تو اس نے کہا اگر یہ سچا نبی ہے تو ایسا ہی ہو جائے گا۔ ورنہ اس کی اور اس کے ملک کی خیر نہیں ۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ایران کا ایک جہاز یمن کی بندرگاہ پر آکر ٹھہرا اور گورنر کو ایران کے بادشاہ کا ایک خط دیا جس کی مہر کو دیکھتے ہوئے یمن کے گورنر نے کہا مدینہ کے نبی نے سچ کہا تھا۔ ایران کی بادشاہت بدل گئی اور اس خط پر ایک اور نے