سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 163
صلى الله سيرة النبي علي 148 جلد 7 طرف سے بھجوایا گیا تھا اُس پر جرہم قوم نے حملہ کیا اور اُسے لوٹ لیا۔ اس کے ایک مہینہ بعد بنو فزارہ نے مسلمانوں کے ایک قافلہ پر حملہ کیا اور اسے لوٹ لیا۔ غالبا یہ حملہ کسی مذہبی عداوت کی وجہ سے نہیں تھا کیونکہ بنو فزارہ ڈاکوؤں کا ایک قبیلہ تھا جو ہر قوم کے آدمیوں کو لوٹتے اور قتل کرتے رہتے تھے۔ اُس زمانہ میں خیبر کے یہودی بھی جو جنگ احزاب کا موجب ہوئے تھے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے ادھر اُدھر کے قبائل کو بھڑکاتے رہے اور رومی حکومت کے سرحدی علاقوں کے افسروں اور قبائل کو بھی مسلمانوں کے خلاف جوش دلاتے رہے ۔ غرض کفار عرب کو مدینہ پر حملہ کرنے کی تو ہمت نہ رہی تھی لیکن وہ یہود کے ساتھ مل کر سارے عرب میں مسلمانوں کے لئے مصیبتوں اور لوٹ مار کے سامان پیدا کر رہے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی تک کفار کے ساتھ آخری لڑائی لڑنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا اور آپ اس انتظار میں تھے کہ اگر صلح کے ساتھ یہ خانہ جنگی ختم ہو جائے تو اچھا ہے۔ پندرہ سو صحابہ کے ساتھ اس عرصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رؤیا دیکھی جس کا قرآن کریم صلى الله علي سالم لا آنحضرت ﷺ کی مکہ کو روانگی میں ان الفاظ میں ذکر آتا ہے لَتَدْخُلُن الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَ مُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذُلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا 146 - یعنی ضرور تم اللہ تعالی کی مشیت کے ماتحت مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے ۔ تم میں سے بعضوں کے سر منڈے ہوئے ہوں گے اور بعضوں کے بال کٹے ہوئے ہوں گے ( حج کے وقت سر منڈانا اور بال کٹانا ضروری ہوتا ہے ) تم کسی سے نہ ڈر رہے ہو گے ۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم نہیں جانتے ۔ اس وجہ سے اُس نے اس خواب کے پورا ہونے سے پہلے ایک اور فتح مقرر کر دی ہے جو اور فخ مقرر کردی ہے جو خواب والی فتح کا پیش خیمہ ہوگی ۔