سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 164

صلى الله سيرة النبي علي 149 جلد 7 اس رویا میں در حقیقت صلح اور امن کے ساتھ مکہ کو فتح کرنے کی خبر دی گئی تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر یہی سمجھی کہ شاید ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ اس غلط فہمی سے اس قسم کی بنیاد پڑنے والی تھی اللہ تعالیٰ نے اس غلطی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ نہ کیا۔ چنانچہ آپ نے اپنے صحابہ میں اس بات کا اعلان کیا اور اُنہیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی تلقین کی ۔ مگر فرمایا ہم صرف طواف کی نیت سے جا رہے ہیں کسی قسم کا مظاہرہ یا کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو دشمن کی ناراضگی کا موجب ہو۔ چنانچہ آخر فروری 628ء میں پندرہ سو زائرین کے ساتھ آپ مکہ کی طرف روانہ ہوئے ( ایک سال بعد گل پندرہ سو آدمیوں کا آپ کے ساتھ جانا بتاتا ہے کہ اس سے ایک سال پہلے جنگ احزاب کے موقع پر اس تعداد سے کم ہی سپاہی ہوں گے کیونکہ ایک سال میں مسلمان بڑھے تھے گھٹے نہ تھے۔ پس جنگ احزاب میں لڑنے والوں کی تعداد جن مؤرخوں نے تین ہزار لکھی ہے یہ غلطی کی ہے۔ درست یہی ہے کہ اُس وقت بارہ سو سپاہی تھے ) حج کے قافلہ کے آگے میں سوار کچھ فاصلہ پر اس لئے چلتے تھے تاکہ اگر دشمن مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہے تو اُن کو وقت پر اطلاع مل جائے ۔ جب مکہ والوں کو آپ کے اس ارادہ کی اطلاع ہوئی تو باوجود اس کے کہ اُن کا اپنا مذہب بھی یہی تھا کہ طواف کعبہ میں کسی کے لئے روک نہیں ڈالنی چاہئے اور باوجود اس کے کہ مسلمانوں نے وضاحت سے اعلان کر دیا تھا کہ وہ صرف اور صرف طواف کعبہ کے لئے جارہے ہیں کسی قسم کی مخالفت یا جھگڑے کے لئے نہیں جارہے مکہ والوں نے مکہ کو ایک قلعہ کی صورت میں تبدیل کر دیا اور ارد گرد کے قبائل کو بھی اپنی مدد کے لئے بلوایا۔ جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو آپ کو یہ اطلاع ملی کہ قریش نے چیتوں کی کھا چیتوں کی کھالیں پہن لی ہیں اور اپنی بیویوں اور بچوں کو ساتھ لے لیا ہے اور یہ قسمیں کھالی ہیں کہ وہ آپ کو گزرنے نہیں دیں گے۔ یہ عرب کا رواج تھا کہ جب قوم موت کا فیصلہ کر لیتی تھی تو