سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 162
صلى الله سيرة ة النبي علي 147 جلد 7 کہ اس تعلیم پر عمل نہیں کیا جاسکتا ۔ پس اس وقت تک دنیا کا تجربہ ہے اور عقل جس حد تک انسان کی راہنمائی کرتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی طریقہ صحیح تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔ اَللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ کفار کی طرف سے جنگ خندق احزاب سے واپس لوٹنے کے بعد گو کفار کی ہمتیں ٹوٹ چکی تھیں اور اُن کے حوصلے پست ہو گئے تھے لیکن یہ احساس کے بعد مسلمانوں پر حملے ان کا باقی تھا کہ ہم اکثریت میں ہیں اور مسلمان تھوڑے ہیں اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ جہاں جہاں بھی ہوگا ہم مسلمانوں کو اِکا دُکا پکڑ کر مارسکیں گے اور اس طرح اپنی ذلت کا بدلہ لے سکیں گے۔ چنانچہ احزاب کی شکست کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مدینہ کے ارد گرد کے قبائل نے مسلمانوں پر چھاپے مارنے شروع کر دیئے ۔ چنانچہ فزارہ قوم کے کچھ سواروں نے مدینہ کے قریب چھاپہ مارا اور مسلمانوں کے اونٹ جو وہاں چر رہے تھے اُن کے چرواہے کو قتل کیا، اُس کی بیوی کو قید کر لیا اور اونٹوں سمیت بھاگ گئے ۔ قیدی عورت تو کسی نہ کسی طرح بھاگ آئی لیکن اونٹوں کا ایک حصہ لے کر بھاگ جانے میں دشمن کامیاب ہو گیا۔ اس کے ایک مہینہ بعد شمال کی طرف غطفان قبیلہ کے لوگوں نے مسلمانوں کے اونٹوں کے گلوں کو لوٹنے کی کوشش کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ کو دس سواروں سمیت حالات کے معلوم کرنے اور گلوں کی حفاظت کرنے کے لئے بھجوایا مگر دشمن نے موقع پا کر انہیں قتل کر دیا۔ محمد بن مسلمہ کو بھی وہ اپنی طرف سے قتل کر کے پھینک گئے تھے لیکن اصل میں وہ بیہوش تھے دشمن کے چلے جانے کے بعد وہ ہوش میں آئے اور مدینہ پہنچ کر ان حالات کی اطلاع دی اور بتایا کہ میرے سب ساتھی مارے گئے اور صرف میں بچا ہوں ۔ کچھ دنوں کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفیر جو رومی حکومت کی