سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 161
له صلى الله سيرة ابي عليه 146 جلد 7 حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہی احکام کی روشنی میں مزید یہ حکم جاری فرمایا کہ عمارتوں کو گراؤ مت اور پھلدار درختوں کو کاٹومت 145 ۔ ان احکام سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اسلام نے جنگ کے روکنے کے لئے کیسی تدابیر اختیار کی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس عمدگی کے ساتھ ان تعلیمات کو جامہ پہنایا اور مسلمانوں کو ان پر عمل کرنے کی تلقین کی ۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ نہ موسی کی تعلیم اس زمانہ میں عدل کی تعلیم کہلا سکتی ہے نہ وہ اس زمانہ میں قابل عمل ہے اور نہ مسیح کی تعلیم اس زمانہ میں قابلِ عمل کہلا سکتی ہے اور نہ کبھی عیسائی دنیا نے اس پر عمل کیا ہے ۔ اسلام ہی کی تعلیم ہے جو قابل عمل ہے اور جس پر عمل کر کے دنیا میں امن قائم رکھا جا سکتا ہے ۔ بیشک اس زمانہ میں مسٹر گاندھی نے دنیا کے سامنے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ جنگ کے وقت بھی جنگ نہیں کرنی چاہئے ۔ لیکن جس تعلیم کو مسٹر گاندھی پیش کر رہے ہیں اُس پر دنیا میں کبھی عمل نہیں ہوا کہ ہم اُس کی برائی اور خوبی کا اندازہ کر سکیں ۔ مسٹر گاندھی کی زندگی میں ہی کانگرس کو حکومت مل گئی ہے اور کانگرسی حکومت نے فوجوں کو ہٹایا نہیں بلکہ وہ یہ تجویزیں کر رہی ہے کہ آئی۔ این اے کے وہ افسر جو برطانوی گورنمنٹ نے ہٹا دیئے تھے اُن کو دوبارہ فوج میں ملازم رکھا جائے۔ بلکہ کانگرسی حکومت کے ہندوستان میں قائم ہونے کے سات دن کے اندر وزیرستان کے علاقہ میں نہتے آدمیوں پر ہوائی جہازوں کے ذریعہ سے بم گرائے گئے ہیں۔ خود گاندھی جی تشدد کرنے والوں کی تائید میں اور اُن کے چھوڑ دینے کے حق میں گورنمنٹ پر ہمیشہ زور دیتے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ گاندھی جی نہ اُن کے پیرو اس تعلیم پر عمل کر سکتے ہیں اور نہ کوئی ایسی معقول صورت دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ قوموں اور ملکوں کی جنگ میں اس تعلیم پر کس طرح کامیاب طور پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ منہ سے اس تعلیم کا وعظ کرتے ہوئے اُس کے خلاف عمل کرنا بتاتا ہے