سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 160
صلى الله سيرة ة النبي علي 145 کسی 3 بچے کونہیں کو نہیں مارنا چاہئے اور اور نہ کسی کسی عورت کو 136۔ 136 - 4۔ پادریوں ، پنڈتوں اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کو قتل نہیں کرنا چاہئے 137۔ جلد 7 5۔ بڑھے کو نہیں مارنا چاہئے ، بچے کو نہیں مارنا چاہئے ، عورت کو نہیں مارنا چاہئے اور ہمیشہ صلح اور احسان کو مد نظر رکھنا چاہئے 138 ۔ 6۔ جب لڑائی کے لئے مسلمان جائیں تو اپنے دشمنوں کے ملک میں ڈر اور خوف پیدا نہ کریں اور عوام الناس پر سختی نہ کریں 139 ۔ 7 ۔ جب لڑائی کے لئے نکلیں تو ایسی جگہ پر پڑاؤ نہ ڈالیں کہ لوگوں کے لئے تکلیف کا موجب ہو اور کوچ کے وقت ایسی طرز پر نہ چلیں کہ لوگوں کیلئے رستہ چلنا مشکل ہو جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا سختی سے حکم دیا ہے کہ فرمایا جو شخص ان احکام کے خلاف کرے گا اُس کی لڑائی اُس کے نفس کے لئے ہو گی خدا کے لئے نہیں ہوگی 140 ۔ 8 - لڑائی میں دشمن کے منہ پر زخم نہ لگا ئیں ۔ 9۔ لڑائی کے وقت کوشش کرنی چاہئے کہ دشمن کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ 10 ۔ جو قیدی پکڑے جائیں اُن میں سے جو قریبی رشتہ دار ہوں اُن کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جائے 141۔ 11 ۔ قیدیوں کے آرام کا اپنے آرام سے زیادہ خیال رکھا جائے 142۔ 12 ۔ غیر ملکی سفیروں کا ادب اور احترام کیا جائے ۔ وہ غلطی بھی کریں تو اُن سے چشم پوشی کی جائے 143۔ 13 - اگر کوئی شخص جنگی قیدی کے ساتھ سختی کر بیٹھے تو اس قیدی کو بلا معاوضہ آزاد کر دیا جائے ۔ 14۔ جس شخص کے پاس کوئی جنگی قیدی رکھا جائے وہ اُسے وہی کھلائے جو خود کھائے اور اُسے وہی پہنائے جو خود پہنے 144۔