سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 159

سيرة النبي علي صلى الله 144 جلد 7 (9) پھر ان قیدیوں کے متعلق فرماتا ہے فَإِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء 132 - یعنی جب جنگی قیدی پکڑے جائیں تو یا تو احسان کر کے اُنہیں چھوڑ دو یا اُن کا بدلہ لے کے اُن کو آزاد کر دو۔ (10) اگر کوئی قیدی ایسے ہوں جن کا بدلہ دینے والا کوئی نہ ہو یا اُن کے رشتہ دار اُن کے اموال پر قابض ہونے کیلئے یہ چاہتے ہوں کہ وہ قید ہی رہیں تو اچھا ہے تو اُن کے متعلق فرماتا ہے وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَاتُوهُمْ مِّنْ مَّالِ اللَّهِ الَّذِي أَنكُمُ 133 یعنی تمہارے جنگی قیدیوں میں سے ایسے لوگ جن کو نہ تم احسان کر کے چھوڑ سکتے ہو اور نہ اُن کی قوم نے اُن کا فدیہ دے کر انہیں آزاد کروایا ہے اگر وہ تم سے یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں آزاد کر دیا جائے ہم اپنے پیشہ اور ہنر کے ذریعہ سے روپیہ کما کر اپنے حصہ کا جرمانہ ادا کر دیں گے تو اگر وہ اس قابل ہیں کہ آزادانہ روزی کما سکیں تو تم ضرور اُنہیں آزاد کر دو بلکہ اُن کی اس کوشش میں خود بھی حصہ دار بنو اور خدا نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اُس میں سے کچھ روپیہ اُن کے آزاد کرنے میں صرف کر دو یعنی اُن کے حصہ کا جو جنگی خرچ بنتا ہے یا اُس میں سے کچھ مالک چھوڑ دے یا دوسرے مسلمان مل کر اس قیدی کی مالی امداد کریں اور اُسے آزاد کرائیں ۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے اور یہ وہ قواعد ہیں جن کے ماتحت اسلام جنگ کی اجازت دیتا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم کی ان آیات کی روشنی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مزید تعلیمات مسلمانوں کو دیں وہ مندرجہ ذیل ہیں :۔ 1 - کسی صورت میں مسلمانوں کو مثلہ کرنے کی اجازت نہیں یعنی مسلمانوں کو مقتولین جنگ کی ہتک کرنے یا اُن کے اعضاء کاٹنے کی اجازت نہیں ہے 134 ۔ 2۔ مسلمانوں کو کبھی جنگ میں دھوکا بازی نہیں کرنی چاہئے 135۔