سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 149
صلى الله سيرة النبي علي 134 جلد 7 باقی نہیں رہے ۔ جب دوقو میں آپس میں لڑتی ہیں تو ہر قوم اس بات کی مدعی ہوتی ہے کہ وہ کرسچن سویلیزیشن کی تائید کر کر رہی ہے اور اور جب کوئی کوئی قوم جیت جاتی ہ ہے کہا تو کہا جاتا ہے کہ اس جیتی ہوئی قوم کا طریق کار ہی کرسچن سویلیزیشن ہے ۔ مگر بہر حال مسیح کے وو دو زمانہ سے آج تک عیسائی دنیا جنگ کرتی چلی آرہی ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ جنگ کرتی چلی جائے گی ۔ پس جہاں تک مسیحی دنیا کے فیصلہ کا تعلق ہے۔ یہی معلوم ہوتا ہے کہ تم اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدو اور میں صلح کرانے کے لئے نہیں بلکہ تلوار چلانے کے لئے آیا ہوں یہ اصل قانون ہے اور تو ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا بھی پھیر دے، یہ قانون یا تو ابتدائی عیسائی دنیا کی کمزوری کے وقت مصلحنا اختیار کیا گیا تھا یا پھر عیسائی افراد کے باہمی تعلقات کی حد تک یہ قانون محدود ہے۔ حکومتوں اور قوموں پر یہ قانون چسپاں نہیں ہوتا ۔ دوسرے اگر یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ مسیح کی اصل تعلیم جنگ کی نہیں تھی بلکہ صلح ہی کی تھی تب بھی اس تعلیم سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جو شخص اس تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے وہ خدا کا برگزیدہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ عیسائی دنیا آج تک موسی اور یوشع اور داؤد کو خدا کا برگزیدہ قرار دیتی ہے بلکہ خود عیسائیت کے زمانہ کے بعض قومی ہیرو جنہوں نے اپنی قوم کے لئے جان کو خطرہ میں ڈال کر دشمنوں سے جنگیں کی ہیں مختلف زمانہ کے پوپوں کے فتویٰ کے مطابق آج سینٹ کہلاتے ہیں ۔ جنگ کے متعلق اسلام کی تعلیم اسلام ان دونوں قسم کی تعلیموں کے درمیان در میان تعلیم دیتا ہے یعنی نہ تو وہ موسی کی طرح وو کہتا ہے کہ تو جارحانہ طور پر کسی ملک میں گھس جا اور اُس قوم کو تہ تیغ کر دے اور نہ وہ اس زمانہ کی بگڑی ہوئی مسیحیت کی طرح ببانگ بلند یہ کہتا ہے اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے۔ مگر اپنے ساتھیوں کے کان میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ تم اپنے کپڑے بیچ کر بھی تلواریں خرید لو۔ بلکہ اسلام وہ تعلیم پیش کرتا ہے جو فطرت کے عین مطابق ہے اور جو امن اور صلح کے