سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 150
صلى الله سيرة النبي علي جب مدینہ 135 جلد 7 قیام کے لئے ایک ہی ذریعہ ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو کسی پر حملہ نہ کر لیکن اگر کوئی شخص تجھ پر حملہ کرے اور اس کا مقابلہ نہ کرنا فتنہ کے بڑھانے کا موجب نظر آئے اور راستی اور امن اُس سے مٹتا ہو تب تو اُس کے حملہ کا جواب دے۔ یہی وہ تعلیم ہے جس سے دنیا میں امن اور صلح قائم ہو سکتی ہے ۔ اس تعلیم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ۔ آپ مکہ میں برابر تکلیفیں اٹھاتے رہے لیکن آپ نے لڑائی کی طرح نہ ڈالی۔ ، مدینہ میں آپ ہجرت کر کے تشریف لے گئے اور دشمن نے وہاں بھی آپ کا پیچھا کیا تب خدا تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ چونکہ دشمن جارحانہ کارروائی کر رہا ہے اور اسلام کو مٹانا چاہتا ہے اس لئے راستی اور صداقت کے قیام کے لئے آپ اس کا مقابلہ کریں ۔ قرآن کریم میں جو متفرق احکام اس بارہ میں آئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں :۔ (1) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتُ وَ مَسجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ - الَّذِينَ إِنْ مَّكَنْهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُا الزَّكُوةَ وَاَمَرُوا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ 123 یعنی اس لئے کہ ان (مسلمانوں ) پر ظلم کیا گیا اور ان مسلمانوں کو جن سے دشمن نے لڑائی جاری کر رکھی ہے آج جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور اللہ یقیناً اُن کی مدد پر قادر ہے۔ ہاں ان مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی جاتی ہے جن کو اُن کے گھروں سے بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا۔ اُن کا صرف اتنا ہی جرم تھا (اگر یہ کوئی جرم ہے ) کہ وہ یہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ بعض ظالم لوگوں کو دوسرے عادل لوگوں کے ذریعہ سے ظلم سے روکتا نہ رہے تو گرجے اور مناسٹریاں 124 اور عبادت گا ہیں اور