سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 148

سيرة النبي علي صلى الله 133 جلد 7 سمجھتے ہیں ۔ موسوی سلسلہ کے آخر میں حضرت مسیح ظاہر ہوئے اُن کی جنگ کے متعلق یہ تعلیم ہے کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے 120۔ اس سے استنباط کرتے ہوئے عیسائی قوم یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مسیح نے لڑائی سے قوموں کو منع کیا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انجیل میں اس تعلیم کے خلاف اور تعلیمیں بھی آئی ہیں مثلاً انجیل میں لکھا ہے :۔ وو یہ مت سمجھو کہ میں زمین پر صلح کروانے آیا ہوں ، صلح کروانے نہیں بلکہ تلوار 66 چلانے آیا ہوں ۔ 121 اسی طرح لکھا ہے :۔ اُس نے اُنہیں کہا پر اب جس کے پاس بٹوا ہو لیوے اور اسی طرح جھولی 66 بھی ۔ اور جس کے پاس تلوار نہیں اپنے کپڑے بیچ کر تلوار خریدے ۔ 122 یہ یہ آخری دو تعلیمیں پہلی تعلیم کے بالکل متضاد ہیں۔ اگر مسیح جنگ کرانے کے لئے آیا تھا تو پھر ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال پھیر دینے کے کیا معنی تھے؟ پس یا تو یہ تھا تو پھر دونوں قسم کی تعلیمیں متضاد ہیں یا ان دونوں تعلیموں میں سے کسی ایک کو اس کے ظاہر سے پھرا کر اس کی کوئی تاویل کرنی پڑے گی ۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ ایک گال پر تھپڑ کھا کر دوسرا گال پھیر دینے کی تعلیم قابل عمل ہے یا نہیں ۔ میں اس جگہ پر صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اول عیسائی دنیا نے اپنی ساری تاریخ میں نہیں کیا۔ جب عیسائیت شروع شروع میں روما میں غالب تھی تب بھی اُس نے غیر قوموں سے جنگیں کیں ۔ دفاعی ہی نہیں بلکہ جارحانہ بھی ۔ اور اب جبکہ عیسائیت دنیا میں غالب آگئی ہے اب بھی وہ جنگیں کرتی ہے۔ دفاعی ہی نہیں بلکہ جارحانہ بھی ۔ صرف فرق یہ ہے کہ جنگ کرنے والوں میں سے جو فریق جیت جاتا ہے اُس کے متعلق کہہ دیا جاتا تھا کہ وہ کرسچن سویلیزیشن کا پابند تھا۔ کرسچن سویلیزیشن اس زمانہ میں صرف غالب اور فاتح کے طریق کا نام ہے اور اس لفظ کے حقیقی معنی اب کوئی بھی