سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 136
سيرة النبي علي صلى الله 121 جلد 7 بجھ گئیں ۔ مشرکین عرب میں ایک رواج تھا کہ وہ ساری رات آگ جلائے رکھتے تھے اور اس کو وہ نیک شگون سمجھتے تھے ۔ جس کی آگ بجھ جاتی تھی وہ خیال کرتا تھا کہ آج کا تھا دن میرے لئے منحوس ہے اور وہ اپنے خیمے اٹھا کر لڑائی کے میدان سے پیچھے ہٹ جاتا تھا۔ جن قبائل کی آگ بھی اُنہوں نے اس رواج کے مطابق اپنے خیمے اٹھائے اور پیچھے کو چل پڑے تا کہ ایک دن پیچھے انتظار کر کے پھر لشکر میں آشامل ہوں ۔ لیکن چونکہ دن کے جھگڑوں کی وجہ سے سرداران لشکر کے دل میں شبہات پیدا ہو رہے تھے جو قبائل پیچھے ہٹے اُن کے اردگرد کے قبائل نے سمجھا کہ شاید یہود نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر شبخون مار دیا ہے اور ہمارے آس پاس کے قبائل بھاگے جارہے ہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے بھی جلدی جلدی اپنے ڈیرے سمیٹنے شروع کر دیئے اور میدان سے بھاگنا شروع کیا۔ ابوسفیان اپنے خیمہ میں آرام سے لیٹا تھا کہ اس واقعہ کی خبر اُسے بھی پہنچی ۔ وہ گھبرا کے اپنے بندھے ہوئے اونٹ پر جا چڑھا اور اُس کو ایڑیاں مارنی شروع کر دیں ۔ آخر اس کے دوستوں نے اس کو توجہ دلائی کہ وہ یہ کیا حماقت کر رہا ہے۔ اس پر اُس کے اونٹ کی رسیاں کھولی گئیں اور وہ بھی اپنے ساتھیوں سمیت میدان سے بھاگ گیا 113۔ رات کے آخری ثلث میں وہ میدان جس میں بیس پچیس ہزار کے قریب کفار کے سپاہی خیمہ زن تھے وہ ایک جنگل کی طرح ویران ہو گیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس وقت اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتایا کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے۔ آپ نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے کسی شخص کو بھیجنا چاہا اور اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے صحابہ کو آواز دی ۔ وہ سردی کے ایام تھے اور مسلمانوں کے پاس کپڑے بھی کافی نہ ہوتے تھے۔ سردی کے مارے زبانیں تک جمی جا رہی تھیں ۔ بعض صحابہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی اور ہم جواب بھی دینا چاہتے تھے مگر ہم سے بولا نہیں گیا۔ صرف ایک حذیفہ تھے جنہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله! کیا کام ہے؟ آپ