سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 137
صلى الله سيرة النبي علي 122 جلد 7 نے فرمایا تم نہیں مجھے کوئی اور آدمی چاہئے ۔ پھر آپ نے فرمایا کوئی ہے؟ مگر پھر بھی سردی کی شدت کی وجہ سے جو جاگ بھی رہے تھے وہ جواب نہ دے سکے ۔ حذیفہ نے پھر کہا يَا رَسُولَ الله! میں موجود ہوں ۔ آخر آپ نے حذیفہ کو یہ کہتے ہوئے بھجوایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تمہارے دشمن کو ہم نے بھگا دیا ہے، جاؤ اور دیکھو کہ دشمن کا کیا حال ہے ۔ حذیفہ خندق کے پاس گئے اور دیکھا کہ میدان گلی طور پر دشمن کے سپاہیوں سے خالی تھا۔ واپس آئے اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی اور بتایا کہ دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔ صبح مسلمان اپنے خیمے اکھیڑ کر اپنے اپنے گھروں کی طرف آنے شروع ہوئے 114۔ بنو قریظہ کو اُن کی غداری کی سزا میں دنوں کے بعد مسلمانوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ مگر اب بنو قریظہ کا معاملہ طے ہونے والا تھا۔ اُن کی غداری ایسی نہیں تھی کہ اس کو نظرانداز کیا جاتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آتے ہی اپنے صحابہؓ سے فرمایا گھروں میں آرام نہ کرو بلکہ شام سے پہلے پہلے بنو قریظہ کے قلعوں تک پہنچ جاؤ اور پھر آپ نے حضرت علیؓ کو بنو قریظہ کے پاس بھجوایا کہ وہ اُن سے پوچھیں کہ اُنہوں نے معاہدہ کے خلاف یہ غداری کیوں کی؟ بجائے اس کے کہ بنو قریظہ شرمندہ ہوتے یا معافی مانگتے یا کوئی معذرت کرتے اُنہوں نے حضرت علیؓ اور اُن کے ساتھیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کی مستورات کو گالیاں دینی شروع کیں اور کہا ہم نہیں جانتے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا چیز ہیں ہمارا اُن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ۔ حضرت علیؓ اُن کا یہ جواب لے کر واپس لوٹے تو اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دے صحابہ کے ساتھ یہود کے قلعوں کی طرف جارہے تھے چونکہ یہود بے نقط گالیاں رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور بیٹیوں کے متعلق بھی ناپاک کلمات بول رہے تھے حضرت علیؓ نے یہ سمجھتے ہوئے کہ آپ کو اُن کلمات کے سننے سے