سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 135

ة سيرة النبي علي صلى الله 120 جلد 7 عرب مشتر کہ حملہ کے لئے تم سے خواہش کریں تو تم مشرکین سے مطالبہ کرو کہ اپنے 70 آدمی ہمارے پاس رغمال کے طور پر بھیج دو وہ ہمارے قلعوں کی حفاظت کریں گے اور ہم مدینہ کے پچھواڑے سے اُس پر حملہ کر دیں گے۔ پھر وہ وہاں سے ہٹ کر مشرکین کے سرداروں کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ یہود تو مدینہ کے رہنے والے ہیں اگر عین موقع پر یہ تم سے غداری کریں تو پھر کیا کرو گے؟ اگر یہ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے اور اپنے جرم کو معاف کروانے کے لئے تم سے تمہارے آدمی بطور یرغمال مانگیں اور اُن کو مسلمانوں کے حوالے کر دیں تو پھر تم کیا کرو گے؟ تمہیں چاہئے کہ اُن کا امتحان لے لو کہ آیا وہ پکے بھی رہتے ہیں یا نہیں اور جلد ہی اُن کو اپنے ساتھ باقاعدہ حملہ کرنے کی دعوت دو ۔ کفار کے سرداروں نے اس مشورہ کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے دن یہود کو پیغام بھیجا کہ ہم ایک اجتماعی حملہ کرنا چاہتے ہیں تم بھی اپنی فوجوں سمیت کل حملہ کر دو۔ بنوقریظہ نے کہا کہ اول تو کل ہمارا سبت کا دن ہے اس لئے ہم اس دن لڑائی نہیں کر سکتے ۔ دوسرے ہم مدینہ کے رہنے والے ہیں آپ لوگ باہر کے ہیں۔ اگر تم لوگ لڑائی چھوڑ کر چلے جاؤ تو ہمارا کیا بنے گا۔ اس لئے آپ لوگ ہمیں 70 آدمی یرغمال کے طور پر دیں گے تب ہم لڑائی میں شامل ہوں گے ۔ کفار کے دل میں چونکہ پہلے سے شبہ پیدا ہو چکا تھا اُنہوں نے اُن کے اس مطالبہ کو پورا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر تمہارا ہمارے ساتھ اتحاد سچا تھا تو اس قسم کے مطالبہ کے کوئی معنی نہیں ۔ اس واقعہ سے اُدھر یہود کے دلوں میں شبہات پیدا ہونے لگے ادھر کفار کے دلوں میں شبہات پیدا ہو ۔ را ہونے لگے اور جیسا کہ قاعدہ اعدہ ہے جب شبہات دل میں پیدا ہو جاتے ہیں تو بہادری کی روح بھی ختم ہو جاتی ہے انہی شکوک و شبہات کو ساتھ لئے ہوئے کفار کا لشکر رات کو آرام کرنے کے لئے اپنے خیموں میں گیا تو خدا تعالیٰ نے آسمانی نصرت کا ایک اور راستہ کھول دیا۔ رات کو ایک سخت آندھی چلی جس آندھی نے قناتوں کے پردے تو ڑ دیئے۔ چولہوں پر سے ہنڈیاں گرادیں اور بعض قبائل کی آگیں