سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 134

سيرة النبي علي صلى الله 119 جلد 7 کی ہے جو آپ کے خیمہ کا پہرہ دینے کے لئے آئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا اس وقت مشرکین خندق پھاندنے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں جاؤ اور اُن کا مقابلہ کرو میرے خیمہ کو رہنے دو 112 ۔ بنو قریظہ کی مشرکوں سے مل کر حملہ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے یہود نے مدینہ میں چوری چھپے داخل کے لئے تیاری اور اُس میں ناکامی ہونے کی کوشش کی اور اس میں اُن کا جاسوس مارا گیا۔ جب یہود کو یہ معلوم ہوا کہ اُن کی سازش ظاہر ہوگئی ہے تو اُنہوں نے زیادہ دلیری سے عربوں کی مدد شروع کر دی ۔ گو اجتماعی حملہ مدینہ کے پچھواڑے کی طرف سے نہیں کیا کیونکہ اُدھر میدان چھوٹا تھا اور مسلمانوں کی فوجوں کی موجودگی میں بڑا حملہ اُس طرف سے نہیں ہو سکتا تھا لیکن کچھ دن بعد دونوں فریق نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک وقت مقررہ پر یہودیوں اور مشرکوں کے لشکر یکدم مسلمانوں پر حملہ کر دیں مگر اُس وقت اللہ تعالیٰ کی تائید ایک عجیب طرح ظاہر ہوئی جس کی تفصیل یہ ہے :۔ نعیم نامی ایک شخص غطفان کے قبیلہ کا دل میں مسلمان تھا۔ یہ شخص بھی کفار کے ساتھ آیا ہوا تھا لیکن اس بات کی انتظار میں تھا کہ اگر مجھے کوئی موقع ملے تو میں مسلمانوں کی مدد کروں ۔ اکیلا انسان کر ہی کیا سکتا ہے مگر جب اُس نے دیکھا کہ یہود بھی کفار سے مل گئے ہیں اور اب بظاہر مسلمانوں کی حفاظت کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تو ان حالات سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ اُس نے فیصلہ کر لیا کہ بہر حال مجھے اس فتنہ کے دور کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے ۔ چنانچہ جب یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں فریق مل کر ایک دن حملہ کریں تو وہ بنو قریظہ کے پاس گیا اور اُن کے رؤسا سے کہا کہ اگر عربوں کا لشکر بھاگ جائے تو بتاؤ مسلمان تمہارے ساتھ کیا کریں گے؟ تم مسلمانوں کے معاہد ہو اور معاہدہ کر کے اس کے توڑنے کے نتیجہ میں جو سزا تم کو ملے گی اُس کا قیاس کر لو۔ اُن کے دل کچھ ڈرے اور اُنہوں نے پوچھا پھر ہم کیا کریں؟ نعیم نے کہا جب