سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 131
سيرة ة النبي علي صلى الله 116 جلد 7 قَالُوا هُذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُوْلُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمُ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا - مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا 108 - یعنی منافقوں اور کمزور ایمان والوں کے مقابلہ میں مومنوں کا یہ حال تھا کہ جب اُنہوں نے دشمن کا یہ لشکر جرار دیکھا تو اُنہوں نے کہا کہ اس لشکر کے متعلق تو اللہ اور اس کے رسول نے پہلے سے ہی ہم کو خبر دے سے ہی ہم کو خبر دے چھوڑی تھی ۔ اس لشکر کا حملہ تو اللہ اور اس کے رسول کی صداقت کا ثبوت ہے اور یہ لشکر جرار ان کے ایمان کو ہلا نہ سکا بلکہ ایمان اور اطاعت میں مسلمان اور بھی زیادہ ہو گئے ۔ مومنوں کا تو یہ حال ہے کہ اُنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اُس کو وہ پورے طور پر نبھا رہے ہیں۔ چنانچہ کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں دے کر اپنے مقصد کو حاصل کر لیا اور بعض ایسے ہیں کہ گوان کو جانیں دینے کا موقع تو نہیں ملا مگر وہ ہر وقت اس بات کی انتظار میں رہتے ہیں کہ اُن کو خدا کے رستہ میں جان دینے کا موقع ملے تو وہ جان دے دیں اور شروع دن سے انہوں نے خدا تعالیٰ سے جو عہد باندھا تھا اُس کو نبھا رہے ہیں ۔ اسلام میں مردہ لاش کا احترام دشمن جو خندق پرحملہ کر رہا تھا بعض وقت وہ اُس کے پھاند نے میں کامیاب بھی ہو جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن کفار کے بعض بڑے بڑے جرنیل خندق پھاند کر دوسری طرف آنے میں کامیاب ہو گئے ۔ لیکن مسلمانوں نے ایسا جان تو رحملہ کیا کہ سوائے واپس جانے کے اُن کے لئے کوئی چارہ نہ رہا۔ چنانچہ اُس وقت خندق پھاندتے ہوئے کفار کا ایک بہت بڑا رئیس نوفل نامی مارا گیا۔ یہ اتنا بڑا رئیس تھا کہ کفار نے یہ سمجھا کہ اگر اس کی لاش کی ہتک ہوئی تو عرب میں ہمارے لئے منہ دکھانے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ چنانچہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر آپ اس کی لاش واپس کر دیں تو وہ دس ہزار درہم آپ کو دینے کے لئے تیار ہیں ۔ اُن لوگوں کا تو