سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 130

سيرة النبي علي صلى الله 115 جلد 7 صلى الله إِلَّا فِرَارًا 106 - یعنی ایک گروہ اُن میں سے رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اجازت طلب کی کہ اُنہیں محاذ جنگ سے پیچھے لوٹ آنے کی اجازت دی جائے کیونکہ اُنہوں نے کہا ( اب یہودی بھی مخالف ہو گئے ہیں اور اُس طرف سے مدینہ کے بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہیں) اور ہمارے گھر اُس علاقہ کی طرف سے بے حفاظت کھڑے ہیں ) پس ہمیں اجازت دیجئے کہ اپنے گھروں کی جا کر حفاظت کریں) لیکن اُن کا یہ کہنا کہ اُن کے گھر بے حفاظت کھڑے ہیں بالکل غلط ہے ۔ وہ بے حفاظت نہیں ہیں ( کیونکہ خدا تعالیٰ مدینہ کی حفاظت کیلئے کھڑا ہے ) وہ تو صرف ڈر کے مارے میدان جنگ سے بھاگنا چاہتے ہیں ۔ اُس وقت مسلمانوں کی جو حالت تھی اُس کا نقشہ قرآن کریم نے یوں کھینچا ہے اِذْ جَاء وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا ۔ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا - وَإِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا - وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا 107 - یعنی یاد تو کرو جب تم پر لشکر چڑھ کے آگیا تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی۔ یعنی نیچے کی طرف سے کفار اور اوپر کی طرف سے یہود ۔ جبکہ نظریں کج ہونے لگ گئیں اور دل اچھل اچھل کر گلے تک آنے لگے اور تم میں سے کئی خدا کی نسبت بدظنیاں کرنے لگ گئے ۔ اُس وقت مومنوں کے ایمان کا امتحان لیا گیا اور مومنوں کو سر سے پیر تک ہلا دیا گیا ۔ اور یاد کرو جبکہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھی اُنہوں نے کہنا شروع کیا اللہ اور اُس کے رسول نے ہم سے جھوٹے وعدے کئے تھے۔ اور یاد کرو جب اُن میں سے ایک گروہ اس حد تک پہنچ گیا کہ اُنہوں نے مومنوں سے بھی جا جا کر کہنا شروع کر دیا کہ اب کوئی چوکی یا قلعہ تمہیں بچا نہیں سکتا پس یہاں سے بھاگ جاؤ۔ اور مومنوں کی نسبت فرماتا ہے وَلَمَّارَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْأَحْزَابَ وو