سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 129

صلى الله سيرة النبي علي 114 جلد 7 حالت میں بعض مسلمان گھبرا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا يَا رَسُولَ الله! حالات نہایت خطرناک ہو گئے ہیں ۔ اب بظاہر مدینہ کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی آپ اس وقت خدا تعالیٰ سے خاص طور پر دعا کریں اور ہمیں بھی کوئی دعا سکھائیں جس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو۔ آپ نے فرمایا تم لوگ گھبراؤ نہیں تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ وہ تمہاری کمزوریوں پر پردہ ڈالے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور تمہاری گھبراہٹ کو دور فرمائے۔ اور پھر آپ نے خود بھی اس طرح دعا فرمائی اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتٰبِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمُهُمْ وَانْصُرُنَا عَلَيْهِمْ وَزَلْزِلُهُم 104 اور اسی طرح یہ دعا فرمائی يَا صَرِيخَ الْمَكْرُوبِينَ يَا مُجِيبَ الْمُضْطَرِّينَ اكْشِفُ هَمِّي وَكَرْبِي فَإِنَّكَ تَرَى مَا نَزَلَ بِي وَ بِأَصْحَابِی 105 اے اللہ ! جس نے قرآن کریم مجھ پر نازل کیا ہے جو بہت جلدی اپنے بندوں سے حساب لے سکتا ہے یہ گروہ جو جمع ہو کر آئے ہیں ان کو شکست دے۔ اے اللہ ! میں پھر عرض کرتا ہوں کہ تو انہیں شکست دے اور ہمیں ان پر غلبہ دے اور اُن کے ارادوں کو متزلزل کر دے۔ اے دردمندوں کی دعا سننے والے ! اے گھبراہٹ میں مبتلا لوگوں کی پکار کا جواب دینے والے! میرے غم اور میری فکر اور میری گھبراہٹ کو دور کر کیونکہ تو ان مصائب کو جانتا ہے جو مجھے اور میرے ساتھیوں کو درپیش ہیں ۔ منافقوں اور مومنوں کی حالت کا بیان اس موقع پر منافق تو اتنے گھبرا گئے کہ قومی حمیت اور اپنے شہر اور اپنی عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا خیال بھی اُن کے دلوں سے نکل گیا۔ مگر چونکہ اپنی قوم کے سامنے وہ ذلیل بھی نہیں ہونا چاہتے تھے اس لئے اُنہوں نے بہانے بہانے سے لشکر سے فرار کی صورت سوچی ۔ چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيِّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ يُرِيدُونَ وَمَاهِيَ