سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 128
سيرة ة النبي علي صلى الله 113 جلد 7 آرام سے اپنے وقت پر نہ لے سکے تو آپ کو شدید تکلیف پہنچی ۔ اُس وقت سامنے سے دشمن حملہ کر رہا تھا اور پیچھے سے بنو قریظہ اس بات کی تاڑ میں تھے کہ کوئی موقع مل جائے تو بغیر مسلمانوں کے شبہات کو ابھارنے کے وہ مدینہ کے اندر گھس کر عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیں۔ چنانچہ ایک دن بنو قریظہ نے ایک جاسوس بھیجا تا کہ وہ معلوم کرے کہ عورتیں اور بچے اکیلے ہی ہیں یا کافی تعداد سپاہیوں کی اُن کی حفاظت کے لئے مقرر ہے۔ جس خاص احاطہ میں خاص خاص خاندانوں کو جن کو دشمن سے زیادہ خطرہ تھا جمع کر دیا گیا تھا اُس کے پاس اُس جاسوس نے آ کر منڈلا نہ شروع کیا اور چاروں طرف دیکھنا شروع کیا کہ آیا مسلمان سپاہی اردگرد کہیں پوشیدہ تو نہیں بیٹھے ہوئے ۔ وہ اس تاڑ میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ نے اُسے دیکھ لیا۔ اتفاقاً اُس وقت صرف ایک ہی مسلمان مرد وہاں موجود تھا اور وہ بھی بیمار تھا۔ حضرت صفیہ نے اُسے کہا یہ آدمی دیر سے عورتوں کے علاقہ میں پھر رہا ہے اور جانے کا نام نہیں لیتا اور چاروں طرف دیکھتا پھرتا ہے۔ پس یہ یقیناً جاسوس ہے تم اس کا مقابلہ کر وایسا نہ ہو کہ دشمن پورے حالات معلوم کر کے ادھر حملہ کر دے۔ اُس بیمار صحابی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ تب حضرت صفیہ نے خود ایک بڑا بانس پکڑ کے اُس شخص کا مقابلہ کیا اور دوسری عورتوں کی مدد سے اُس کو مارنے میں کامیاب ہو میں 103 و گئیں 103 - آخر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا اور بنو قریظہ کا جاسوس تھا۔ تب تو مسلمان اور بھی زیادہ گھبرا گئے اور انہوں نے سمجھا کہ اب مدینہ کی یہ طرف بھی محفوظ نہیں۔ مگر سامنے کی طرف سے دشمن کا اتنا زور تھا کہ اب وہ اس طرف کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں کر سکتے تھے لیکن باوجود اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی حفاظت کو مقدم سمجھا اور جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے بارہ سو سپاہیوں میں سے پانچ سو کو عورتوں کی حفاظت کے لئے شہر میں مقرر کر دیا اور خندق کی حفاظت اور اٹھارہ میں ہزار لشکر کے مقابلہ کے لئے صرف سات سو سپاہی رہ گئے ۔ اس