سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 132

له صلى الله سيرة ابي عليه 117 جلد 7 یہ خیال تھا کہ شاید جس طرح ہم نے مسلمان رؤسا بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ناک اور کان اُحد کی جنگ میں کاٹ دیئے تھے اسی طرح شاید آج ، اور میں و مسلمان ہمارے اس رئیس کے ناک کان کاٹ کر ہماری قوم کی بے عزتی کریں گے ۔ مگر اسلام کے احکام تو بالکل اور قسم کے ہیں ۔ اسلام لاشوں کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا۔ چنانچہ کفار کا پیغام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا اس لاش کو ہم نے کیا کرنا ہے، یہ لاش ہمارے کس کام کی ہے کہ اس کے بدلہ ہم تم سے کوئی قیمت لیں ۔ اپنی لاش بڑے شوق سے اٹھا کر لے جاؤ ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں 109 ۔ اتحادی فوجوں کے مسلمانوں پر حملے اُن دنوں جس جوش کے ساتھ کفار حملہ کرتے تھے میور اُس کا ان الفاظ میں ذکر کرتا ہے:۔ وو دوسرے دن محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دیکھا کہ اتحادی فوجیں متفقہ طور پر اُن پر حملے کرنے کے لئے تیار کھڑی ہیں اُن کے حملوں کو روکنے کے لئے بہت زیادہ ہوشیار اور ہر وقت چوکس رہنا ضروری تھا ۔ کبھی وہ متفقہ حملہ کرتے کبھی دستوں میں تقسیم ہو کر مختلف چوکیوں پر حملہ کرتے اور جب کسی چوکی کو کمزور پاتے تو اپنی ساری فوج اُس جگہ پر جمع کر لیتے اور بے پناہ تیراندازی کے پردہ میں وہ خندق پار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یکے بعد دیگرے خالد اور عمرو جیسے مشہور لیڈروں کی ماتحتی میں فوج بہادرانہ حملہ شہر میں داخل ہونے کے لئے کرتی ۔ ایک دفعہ تو خود محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خیمہ دشمن کی زد میں آگیا لیکن مسلمانوں کے فدائیانہ مقابلہ اور تیروں کی بوچھاڑ نے حملہ آوروں کو پیچھے دھکیل دیا۔ یہ حملہ سارا دن جاری رہا اور چونکہ مسلمانوں کی فوج ساری مل کر بمشکل خندق کی حفاظت کر سکتی تھی کوئی آرام کا وقفہ مسلمانوں کو نہ ملا ۔ رات پڑ گئی مگر رات کو بھی خالد کے ماتحت دستوں نے لڑائی کو جاری رکھا اور مسلمانوں کو مجبور