سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 125
سيرة النبي علي صلى الله 110 جلد 7 خلاصہ یہ کہ اس خطرناک مصیبت کے وقت خندق کی حفاظت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف سات سو آدمی تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے خندق کھودی تھی لیکن پھر بھی اتنے بڑے لشکر کو خندق کے پار سے روکنا بھی اتنے تھوڑے آدمیوں کے لئے ناممکن تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مدد کے بھروسہ پر یہ قلیل لشکر ایمان اور یقین کے ساتھ خندق کے پیچھے دشمن کے جرار لشکر کا انتظار کرنے لگا اور عورتیں اور بچے دو الگ الگ جگہوں پر اکٹھے کر دیئے گئے ۔ دشمن جب خندق تک پہنچا تو چونکہ یہ عرب کے لئے ایک بالکل نئی بات تھی اور اس قسم کی لڑائی کے لئے وہ تیار نہ تھے اُنہوں نے خندق کے سامنے اپنے خیمے لگا دیئے اور مدینہ میں داخل ہونے کی تدبیریں سوچنے لگے ۔ بنو قریظہ کی غداری چونکہ مدینہ کا ایک کافی حصہ خندق سے محفوظ تھا اور دوسری طرف کچھ پہاڑی ٹیلے، کچھ پختہ مکانات اور کچھ باغات بہ وغیرہ تھے اس لئے فوج یکدم حملہ نہیں کر سکتی تھی ۔ پس اُنہوں نے مشورہ کر کے یہ تجویز کی کہ کسی طرح یہود کا تیسرا قبیلہ جو ابھی مدینہ میں باقی تھا اور جس کا نام بنو قریظہ تھا اس کو اپنے ساتھ ملایا جائے اور اس ذریعہ سے مدینہ تک پہنچنے کا راستہ کھولا جائے۔ چنانچہ مشورہ کے بعد حی ابن اخطب جو جلا وطن کردہ بنو نضیر کا سردار تھا اور جس کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے سارا عرب اکٹھا ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوا تھا اُسے کفار کی فوج کے کمانڈ رابوسفیان نے اس بات پر مقرر کیا کہ جس طرح بھی ہو بنو قریظہ کو اپنے ساتھ شامل کرو۔ چنانچہ حیی ابن اخطب یہودیوں کے قلعوں کی طرف گیا اور اُس نے بنو قریظہ کے سرداروں سے ملنا چاہا۔ پہلے تو اُنہوں نے ملنے سے انکار کیا لیکن جب اُس نے اُن کو سمجھایا کہ اس وقت سارا عرب مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے آیا ہے اور یہ بستی سارے عرب کا مقابلہ کسی صورت میں نہیں کر سکتی اس وقت جو لشکر مسلمانوں کے مقابل پر کھڑا ہے اُس کو لشکر نہیں کہنا چاہئے بلکہ ایک ٹھاٹھیں مارنے والا سمندر کہنا