سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 124
لله صلى الله سيرة ابي عليه 109 جلد 7 کی ہے جب جنگ شروع ہو گئی اور صرف بالغ مرد رہ گئے ۔ اب رہا یہ سوال کہ تیسری روایت جو سات سو سپاہی بتاتی ہے کیا وہ بھی درست ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ابن اسحق مؤرخ نے بیان کی ہے جو بہت معتبر مؤرخ ہے اور ابن حزم جیسے زبردست عالم نے اس کی بڑے زور سے تصدیق کی ہے۔ پس اس کے بارہ میں بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا اور اس کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ تاریخ کی مزید چھان بین سے معلوم ہوتا ہے کہ جب جنگ کے دوران میں بنو قریظہ کفار کے لشکر سے مل گئے اور اُنہوں نے یہ ارادہ کیا کہ مدینہ پر اچانک حملہ کر دیں اور اُن کی نیتوں کا راز فاش ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی اس جہت کی حفاظت بھی ضروری سمجھی جس طرف بنو قریظہ تھے اور جس طرف کو پہلے اس خیال سے بے حفاظت چھوڑ دیا گیا تھا کہ بنو قریظہ ہمارے اتحادی ہیں یہ دشمن کو اس طرف سے نہ آنے دیں گے۔ چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بنو قریظہ کے غدر کا حال معلوم ہوا تو چونکہ مستورات کو بنو قریظہ کے اعتبار پر اس علاقہ میں رکھا گیا تھا تورات کو بنوقریظہ پر اس جدھر بنو قریظہ کے قلعے تھے اور وہ بغیر حفاظت تھیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب اُن کی حفاظت ضروری سمجھی اور دو لشکر مسلمانوں کے تیار کر کے عورتوں کے ٹھہرنے کے دونوں حصوں پر مقرر فرمایا۔ مسلمہ ابن اسلم کو دو سو صحابہ دے کر ایک جگہ مقرر کیا اور زید بن حارثہ کو تین سو صحابہ دے کر دوسری جگہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد تکبیر بلند آواز سے کہتے رہا کریں تا معلوم ہوتا رہے کہ عورتیں محفوظ ہیں۔ اس روایت سے ہماری یہ مشکل کہ سار رسات سو سپاہی جنگ خندق میں ابن اسحاق نے کیوں بتائے ہیں حل ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ بارہ سو سپاہیوں میں سے جب پانچ سو سپاہی عورتوں کی حفاظت کے لئے بھیجوا دیئے گئے تو بارہ سو کا لشکر صرف سات سو رہ گیا اور اس طرح جنگ خندق کے سپاہیوں کی تعداد کے متعلق جو شدید اختلاف تاریخوں میں پایا جاتا ہے وہ حل ہو گیا۔