سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 123
صلى الله سيرة النبي علي 108 جلد 7 کے دو سال بعد تک با وجود اسلام کی ترقی کے قابل جنگ مسلمان اتنے ہی رہے جتنے اُحد کے وقت تھے ۔ پس ان دونوں تنقیدوں کے بعد وہ روایت ہی درست معلوم ہوتی ہے کہ لڑنے کے قابل مسلمان جنگ احزاب کے وقت کوئی بارہ سو تھے۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر کسی نے تین ہزار اور کسی نے سات سو کیوں لکھا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دو روایتیں الگ الگ حالتوں اور نظریوں کے ماتحت بیان کی گئی ہیں ۔ جنگ احزاب کے تین حصے تھے۔ ایک حصہ اس کا وہ تھا جب ابھی دشمن مدینہ کے سامنے نہ آیا تھا اور خندق کھودی جارہی تھی ۔ اس کام میں کم سے کم مٹی ڈھونے کی خدمت بچے بھی کر سکتے تھے اور بعض عورتیں بھی اس کام میں مدد دے سکتی تھیں ۔ پس جب تک خندق کھودنے کا کام رہا مسلمان لشکر کی تعداد تین ہزار تھی مگر اس میں بچے بھی شامل تھے اور صحابیہ عورتوں کے جوش کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس تعداد میں کچھ عورتیں بھی شامل ہوں گی جو خندق کھودنے کا کام تو نہیں کرتی ہوں گی مگر اوپر کے کاموں میں حصہ لیتی ہوں گی ۔ یہ میرا خیال ہی نہیں تاریخ سے بھی میرے اس خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے جب خندق کھودنے کا وقت آیا سب لڑکے بھی جمع کر لئے گئے اور تمام مرد خواہ بڑے تھے خواہ بچے خندق کھودنے یا اُس میں مدد دینے کا کام کرتے تھے۔ پھر جب دشمن آ گیا اور لڑائی شروع ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تمام لڑکوں کو جو پندرہ سال سے چھوٹی عمر کے تھے چلے جانے کا حکم دیا اور جو پندرہ سال کے ہو چکے تھے اُنہیں اجازت دی کہ خواہ ٹھہریں خواہ چلے جائیں 101۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خندق کھودنے کے وقت مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی اور جنگ کے وقت کم ہو گئی کیونکہ نابالغوں کو واپس چلے جانے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ پس جن روایتوں میں تین ہزار کا ذکر آیا ہے وہ خندق کھودنے کے وقت کی تعداد بتاتی ہیں جس میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے۔ اور جیسا کہ میں نے دوسری جنگوں پر قیاس کر کے نتیجہ نکالا ہے کچھ عورتیں بھی تھیں لیکن بارہ سو کی تعداد اُس وقت