سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 122
صلى الله سيرة النبي علي 107 جلد 7 گئے اور اُس کی کنجیاں مجھے دی گئیں ، دوسری دفعہ کی روشنی میں مدائن کے سفید محلات مجھے دکھائے گئے اور مملکت فارس کی کنجیاں مجھے دی گئیں ، تیسری دفعہ کی روشنی میں ں مجھے دی گئیں ، تیسری دفعہ کی روشنی میں صنعاء کے دروازے مجھے دکھائے گئے اور مملکت یمن کی کنجیاں مجھے دی گئیں 100 - پس تم خدا کے وعدوں پر یقین رکھو دشمن تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ یہ تھوڑے سے آدمی اتنی لمبی خندق فوجی اصول کے مطابق تو نہیں کھود سکتے تھے۔ پس یہ خندق اتنا ہی فائدہ دے سکتی تھی کہ دشمن اچانک اندر نہ گھس آئے ورنہ اس خندق سے پار ہونا ان کیلئے نا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ آئندہ جو واقعات بیان ہوں گے اُن سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے دشمن نے بھی مدینہ کے حالات کو مدنظر رکھ کر اُسی طرف سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا ۔ چنانچہ دشمن کا لشکر جرار اسی طرف سے مدینہ میں داخل ہونے کیلئے آگے بڑھا۔ رسول کریم ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ بھی کچھ لوگوں کو شہر کے دوسرے حصوں کی حفاظت کیلئے مقرر کر کے بقیہ آدمی جو بارہ سو کے قریب تھے ان کو لے کر خندق کی حفاظت کیلئے تشریف لے گئے ۔ غزوہ خندق کے وقت اسلامی اس موقع پر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کے بارہ میں مورخین میں سخت اختلاف ہے۔ لشکر کی اصل تعداد کیا تھی ؟ بعض لوگوں نے اس لشکر کی تعداد تین ہزار لکھی ہے ، بعض نے بارہ تیرہ سو اور بعض نے سات سو ۔ یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ اس کی تاویل بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے اور مؤرخین اسے حل نہیں کر سکے۔ لیکن میں نے اس کی حقیقت کو پالیا ہے اور وہ یہ کہ تینوں قسم کی روایتیں درست ہیں۔ یہ بتایا جا چکا ہے کہ جنگ اُحد میں منافقین کے واپس آجانے کے بعد مسلمانوں کا لشکر صرف سات سو افراد پر مشتمل تھا۔ جنگ احزاب اس کے صرف دو سال بعد ہوئی ہے اور اس عرصہ میں کوئی بڑا قبیلہ اسلام لاکر مدینہ میں آکر نہیں بسا۔ پس سات سو آدمیوں کا یکدم تین ہزار ہو جانا قرین قیاس نہیں ۔ دوسری طرف یہ امر بھی قرین قیاس نہیں کہ احد