سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 126

سيرة النبي علي صلى الله 111 جلد 7 چاہئے تو ان باتوں سے اُس نے بنو قریظہ کو آخر غداری اور معاہدہ شکنی پر آمادہ کر دیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ کفار کا لشکر سامنے کی طرف سے خندق پار ہونے کی کوشش کرے اور یہ کہ جب وہ خندق پار ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے تو بنو قریظہ مدینہ کی دوسری طرف سے مدینہ کے اُس حصہ پر حملہ کر دیں گے جہاں عورتیں اور بچے ہیں اور جسے بنو قریظہ پر اعتبار کر کے بغیر حفاظت کے چھوڑ دیا گیا تھا اور اس طرح مسلمانوں کی مقابلہ کی اقت بالکل کچلی جائے گی اور ایک ہی دم میں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے سب مار دیئے جائیں گے۔ یہ یقینی بات ہے کہ اس تدبیر میں تھوڑی بہت کامیابی بھی کفار کو ہو جاتی تو مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ حفاظت کی باقی نہیں رہتی تھی ۔ بنو قریظہ مسلمانوں کے حلیف تھے اور اگر وہ کھلی جنگ میں شامل نہ بھی ہوتے تب بھی مسلمان یہ امید کرتے تھے کہ اُن کی طرف سے ہو کر مدینہ پر کوئی حملہ نہیں کر سکے گا۔ اسی وجہ سے اُن کی طرف کا حصہ بالکل غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا تھا۔ بنو قریظہ اور کفار نے بھی اس صورت حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ جب بنو قریظہ کفار کے ساتھ مل گئے تو وہ کھلے بندوں کفار کی مدد نہ کریں تا ایسا نہ ہو کہ مسلمان مدینہ کی اُس طرف کی حفاظت کا بھی کوئی سامان کر لیں جو بنو قریظہ کے علاقہ سے ملتی تھی۔ یہ تدبیر نہایت ہی خطرناک تھی۔ مسلمانوں کو غافل رکھتے ہوئے کسی ایسے وقت میں بنو قریظہ کا دشمن کے ساتھ جا ملنا جبکہ اسلامی فوج پر کفار کی فوج کا زبردست دھاوا ہو رہا ہو مدینہ کی اس طرف کی حفاظت کو جس طرف بنو قریظہ کے قلعے واقع تھے بالکل ناممکن بنا دیتا تھا۔ دوطرف سے مسلمانوں پر حملہ کر سکنے کا امکان پیدا ہو جانے کے بعد مکہ کے لشکر نے خندق پر حملہ شروع کیا۔ پہلے چند دن تو اُن کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ خندق پر سے کس طرح گزریں لیکن دو چار دن کے بعد اُنہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ تیرانداز اونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر اُن مسلمان دستوں پر تیر اندازی شروع کر دیتے تھے جو خندق کی حفاظت کے لئے خندق کے ساتھ ساتھ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر بٹھائے گئے تھے۔