سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 115

سيرة النبي علي صلى الله 100 جلد 7 کے پاس گیا جو ابو براء کا بھتیجا تھا تا کہ اُس کو اسلام کا پیغام دے۔ بظاہر قبیلہ والوں نے حرام کا اچھی طرح استقبال کیا مگر جس وقت وہ رئیس کے سامنے تقریر کر رہے تھے تو ایک آدمی چھپ کر پیچھے سے آیا اور اُن پر نیزہ سے حملہ کیا۔ حرام وہیں مارے گئے ۔ جب نیزہ اُن کے گلے سے پار ہوا تو وہ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اللهُ اَکبَرُ۔ فُرْتُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ یعنی اللَّهُ أَكْبَرُ - کعبہ کے رب کی قسم ! میں اپنی مراد کو پہنچ گیا 96 - اس دھوکا بازی سے حرام کے قتل کرنے کے بعد قبیلہ کے سرداروں نے اہلِ قبیلہ کو جوش دلایا کہ باقی جماعت معلمین پر بھی حملہ کریں ۔ مگر قبیلہ والوں نے کہا کہ ہمارے رئیس ابو براء نے ضامن ہونا منظور کیا ہے ہم اس جماعت پر حملہ نہیں کر سکتے ۔ اس پر قبیلہ کے سرداروں نے اُن دو قبیلوں کی مدد کے ساتھ جو مسلمان معلمین کو لانے کے لئے گئے تھے جماعت معلمین پر حملہ کر دیا۔ اُن کا یہ کہنا کہ ہم وعظ کرنے اور اسلام سکھانے آئے ہیں لڑنے نہیں آئے بالکل کارگر نہ ہوا اور انہوں نے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔ آخر تین آدمیوں کے سوا باقی سب شہید ہو گئے ۔ اس جماعت میں سے دیا۔ ایک آدمی لنگڑا تھا اور لڑائی ہونے سے پہلے پہاڑی پر چڑھ گیا تھا اور دو اونٹوں کو چرانے جنگل میں گئے ہوئے تھے۔ جنگل سے واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ اُن کے چھیاسٹھ ساتھی میدان میں مرے پڑے ہیں ۔ دونوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ ایک نے کہا ہمیں چاہئے کہ اس کی جاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیں۔ دوسرے نے کہا ہاں ہماری جماعت کا سردار جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا قتل کیا گیا ہے میں اُس جگہ کو چھوڑ نہیں سکتا ۔ یہ کہتے ہوئے وہ تن تنہا کفار پر حملہ آور ہوا اور لڑتا ہوا مارا گیا۔ دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا مگر بعد میں ایک قسم کی بناء پر جو قبیلہ کے ایک سردار نے کھائی ہوئی تھی اسے چھوڑ دیا گیا۔ قتل ہونے والوں میں عامر بن فہیر رض بھی تھے جو حضرت ابوبکر کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اُن کا قاتل ایک شخص جبار بن سلمی سہواً درج ہوا ہے مراد 67 ہے۔ (مرتب)