سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 114

سيرة ة النبي علي صلى الله 99 میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔ جلد 7 حبیب نے ابھی یہ شعر ختم نہ کیے تھے کہ جلاد کی تلوار اُن کی گردن پر پڑی اور اُن کا سرخاک پر آ گرا۔ جو لوگ یہ جشن منانے کو جمع ہوئے تھے اُن میں ایک شخص سعید بن عامر بھی تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ جب کبھی خبیب کے قتل کا ذکر سعید کے سامنے ہوتا تو اس کو غش آ جایا کرتا 94۔ دوسرے قیدی زید کو بھی قتل کرنے کے لئے باہر لے جایا گیا۔ اس تماشہ کو دیکھنے والوں میں ابوسفیان رئیس مکہ بھی تھا۔ وہ زید کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ محمدؐ تمہاری جگہ پر ہو اور تم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہو؟ زید نے بڑے غصہ سے جواب دیا کہ ابوسفیان ! تم کیا کہتے ہو؟ خدا کی قسم ! میرے لئے مرنا اس سے بہتر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاؤں کو مدینہ کی گلیوں میں ایک کانٹا بھی چھ جائے ۔ اس فدائیت سے ابوسفیان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اُس نے حیرت سے کی فوراہی خدا ہے کہ زید کی طرف دیکھا اور فوراً ہی دبی زبان میں کہا کہ خدا گواہ ہے کہ جس طرح محمد کے زند کی طرف دیکھا اور فوراً ہی دلی زمان : ہا جس محمد ساتھ محمد کے ساتھی محبت کرتے ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی اور شخص کسی سے محبت کرتا ہو 95۔ 70 حفاظ قرآن کے قتل کا حادثہ انہی ایام کے قریب قریب نجد کے کچھ لوگ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ اُن کے ساتھ چند مسلمانوں کو بھیج دیا جائے تا کہ وہ اُن کو اسلام سکھائیں ۔ آنحضرت ﷺ نے اُن کا اعتبار نہ کیا مگر ابو براء نے جو اُس وقت مدینہ میں تھے کہا کہ میں اس قبیلہ کی طرف سے ضمانتی بنتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دلایا کہ وہ کوئی شرارت نہیں کریں گے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 70 مسلمانوں کا جو حافظ قرآن تھے اس کام کے لئے انتخاب کیا۔ جب یہ جماعت بئر معونہ پر پہنچی تو اُن میں سے ایک شخص حرام بن ملحان قبیلہ عامر کے رئیس