سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 113
سيرة النبي علي صلى الله 98 جلد 7 زیڈ۔ حبیب کا خریدار اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لئے جسے خبیب نے جنگِ بدر میں قتل کیا تھا حبیب کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ ایک دن حبیب نے اپنی ضرورت کے لئے اُسترا مانگا۔ استرا حبیب کے ہاتھ میں تھا کہ گھر والوں کا ایک بچہ کھیلتے ہوئے اُس کے پاس چلا گیا ۔ حبیب نے اس بچے کو اٹھا کر اپنی ران پر بیٹھا لیا۔ بچے کی ماں نے جب یہ دیکھا تو دہشت زدہ ہوگئی اور اُسے یقین ہو گیا کہ اب خبیب بچے کو قتل کر دے گا کیونکہ وہ حبیب کو چند دنوں میں قتل کرنے والے تھے اور اُس وقت اُسترا اُس کے ہاتھ میں تھا۔ بچہ اُس کے اتنا قریب تھا کہ وہ اُسے نقصان پہنچا سکتا تھا۔ حبیب نے اُس کے چہرے سے پریشانی کو بھانپ لیا اور کہا کہ کیا تم خیال کرتی ہو کہ میں تمہارے بچے کو قتل کرنے لگا ہوں؟ اس خیال کو بھی کبھی دل میں نہ لاؤ میں ایسا برا فعل نہیں کر سکتا۔ مسلمان دھو کے باز نہیں ہوتے ۔ وہ عورت خبیب کے اس دیانتدارانہ اور صحیح طریق عمل سے بہت متاثر ہوئی ۔ اس بات کو اُس نے ہمیشہ بعد میں یاد رکھا اور ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ میں نے خبیب سا قیدی کوئی نہیں دیکھا ۔ آخر کار مکہ والے حبیب کو ایک کھلے دیکھا۔ کو کے جشن منائیں ۔ جب اُن کے قتل کا وقت آن میدان میں لے گئے تا اُس کو قتل کر کے جشن منائیں۔ جب اُن کے قتل کا وقت آن تا : پہنچا تو خبیب نے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ قریش نے یہ بات مان لی اور خبیب نے سب لوگوں کے سامنے اس دنیا میں آخری بار اپنے اللہ کی عبادت کی ۔ جب وہ نماز ختم کر چکے تو اُنہوں نے کہا کہ میں اپنی نماز جاری رکھنا چاہتا تھا مگر اس خیال سے ختم کر دی ہے کہ کہیں تم یہ نہ سمجھو کہ میں مرنے سے ڈرتا ہوں ۔ پھر آرام سے اپنا سر قاتل کے سامنے رکھ دیا اور ایسا کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے وَلَسْتُ أُبَالِي حِيْنَ اقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبِ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَّشَأْ يُبَارِكُ عَلَى أَوْصَالِ شِلُو مُمَزَّعٍ 93 یعنی جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے پرواہ نہیں ہے کہ میں کس پہلو پر قتل ہو کر گروں ۔ یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے۔ اور اگر میرا خدا چاہے گا تو