سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 112

سيرة ة النبي علي صلى الله 97 جلد 7 اصولوں کی تعلیم دیں ۔ جب یہ جماعت بنو لحیان کے علاقہ میں پہنچی تو عضل اور قارة کے لوگوں نے بنو لحیان کو اطلاع بھجوادی اور اُن کو کہلا بھیجا کہ مسلمانوں کو یا تو گرفتار کر لیں یا موت کے گھاٹ اتار دیں ۔ اس ناپاک منصوبے کے ماتحت بنولحیان کے دوسو مسلح آدمی مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور آخر مقام رجیع میں اُن کو آگھیرا۔ دس مسلمانوں اور دو سو دشمنوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔ مسلمانوں کے دل نور ایمان سے پُر تھے اور دشمن اس سے تہی تھے۔ دس مسلمان ایک ٹیلہ پر چڑھ گئے اور دو سو آدمیوں کو دعوت مبارزت دی۔ دشمن نے ایک فریب کر کے اُن کو گرفتار کرنا چاہا اور اُن سے کہا کہ اگر تم نیچے اتر آؤ تو تمہیں کچھ نہ کہا جائے گا مگر مسلمانوں کے امیر نے کہا کہ ہم کافروں کے عہد و پیمان کو کافی دیکھ چکے ہیں ۔ اس کے بعد اُنہوں نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا اے خدا! تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔ جب کفار نے دیکھا کہ مسلمانوں کی اس چھوٹی سی جماعت پر اُن کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو انہوں نے اُن پر حملہ کر دیا اور مسلمان بغیر شکست کے خوف کے لڑتے چلے گئے یہاں تک کہ دس میں سے سات شہید ہو گئے ۔ باقی تین جو بیچ رہے تھے اُن کو پھر کفار نے وعدہ دیا کہ ہم تمہاری جان بچالیں گے بشرطیکہ تم ٹیلے سے نیچے اتر آؤ۔ ان تینوں نے کفار کے اس وعدہ پر اعتبار کرتے ہوئے اپنے تئیں ان کے حوالہ کر دیا ۔ جونہی انہوں نے ایسا کیا کفار نے انہیں اپنی کمانوں کی تانتوں سے جکڑ کر باندھ لیا۔ اس پر اُن تینوں میں سے ایک نے کہا کہ یہ پہلی خلاف ورزی ہے جو تم اپنے عہد کی کر رہے ہو اللہ ہی جانتا ہے کہ تم اس کے بعد کیا کرو گے ۔ یہ کہہ کر اُس نے اُن کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ کفار نے اُس کو مارنا اور گھسیٹنا شروع کر دیا ۔ مگر آخر اس کے مقابلے اور استقلال سے اس قدر مایوس ہو گئے کہ اُنہوں نے اُس کو وہیں قتل کر دیا ۔ باقی دو کو وہ ساتھ لے گئے اور بطور غلاموں کے قریش مکہ کے پاس فروخت کر دیا 92 ان میں سے ایک کا نام خبیب تھا اور دوسرے کا