سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 111
صلى الله سيرة النبي علي 96 جلد 7 احد کا واقعہ ایسی غزوہ اُحد کے بعد کفار قبائل کے ناپاک منصوبے ایہ بھی ای سانی سے بھولا جا سکتا ۔ مکہ والوں نے خیال کیا تھا کہ یہ اُن کی اسلام کے خلاف پہلی فتح ہے اُنہوں نے اس کی خبر تمام عرب میں شائع کی اور عرب کے قبائل کو اسلام کے خلاف بھڑکانے اور یقین دلانے کا ذریعہ بنایا کہ مسلمان نا قابل تسخیر نہیں ہیں ۔ اور اگر وہ ترقی کرتے رہے ہیں تو اس کی وجہ اُن کی طاقت نہیں تھی بلکہ عرب قبائل کی بے تو جہی تھی ۔ عرب متحدہ کوشش کریں تو مسلمانوں پر غالب آ جانا کوئی مشکل امر نہیں ۔ اس پرو پیگنڈا کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف مخالفت زور پکڑتی گئی اور دیگر قبائل نے مسلمانوں کو تکلیف دینے میں مکہ والوں سے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا۔ بعض نے کھلم کھلا حملے شروع کر دیئے اور بعض نے خفیہ طور پر اُن کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ ہجرت کے چوتھے سال عرب کے دو قبائل عضل اور قارۃ نے اپنے نمائندے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج کر عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے دمی اسلام کی طرف مائل ہیں اور درخواست کی کہ کچھ آدمی جو تعلیم اسلام سے پوری طرح واقف ہوں بھیج دیئے جائیں تا کہ وہ اُن کے درمیان رہ کر اُن کو اس نئے مذہب کی تعلیم دیں ۔ دراصل یہ ایک سازش تھی جو بنو لحیان نے جو اسلام کے پکے دشمن تھے کی تھی اور ان کا مقصد یہ تھا کہ جب یہ نمائندے مسلمانوں کو لے کر آئیں گے تو وہ اُن کو قتل کر کے اپنے رئیس سفیان بن خالد کا بدلہ لیں گے۔ چنانچہ اُنہوں نے عضل اور قارة کے نمائندوں کو چند مسلمانوں کو لے آنے پر انعام کے بڑے بڑے وعدے دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔ جب عضل اور قارة کے لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر درخواست کی تو آپ نے اُن کی بات پر اعتبار کر کے دس مسلمانوں کو اُن کے ساتھ کر دیا کہ ان لوگوں کو اسلام کے عقائد اور