سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 110

سيرة النبي علي صلى الله 95 جلد 7 اور یہ مناسب نہیں کہ ہم شراب پیتے جائیں اور تحقیقات کریں بلکہ ہمارا فرض یہ ہے کہ شراب کو گلیوں میں بہہ جانے دیں اور پھر اعلان کے متعلق تحقیقات کریں 91۔ اس مسلمان کا خیال درست تھا کیونکہ اگر شراب کا پیا جانا ممنوع قرار دیا جا چکا تھا تو اس کے بعد اگر وہ شراب پینا جاری رکھتے تو ایک جرم کے مرتکب ہوتے اور اگر شراب پینا ممنوع نہیں قرار دیا گیا تھا تو شراب کا بہا دینا اتنا بڑا نقصان نہ تھا کہ اُسے برداشت نہ کیا جا سکتا ۔ اس اعلان کے بعد شراب نوشی مسلمانوں سے بالکل دور ہو گئی ۔ اس انقلاب عظیم کو پیدا کرنے کے لئے کوئی خاص کوشش اور مجاہدہ کی ضرورت نہیں پڑی ۔ ایسے مسلمان جنہوں نے اس حکم کو سنا اور جو فوری تعمیل اس کی ہوئی اُس کو دیکھ ستر اسی سال تک زندہ رہے مگر اُن میں سے ایک مسلمان بھی ایسا نہیں جس نے اس حکم کے بعد اس کی خلاف ورزی کی ہو۔ اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے تو وہ ایسے شخص کے متعلق ہے جس نے براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ نہ کیا تھا۔ جب ہم اس کا مقابلہ امریکہ کی تحریک امتناع شراب سے کرتے ہیں اور ان کوششوں کو دیکھتے ہیں جو اس حکم کو نافذ کرنے کے لئے کی گئیں یا جو سالہا سال تک یورپ میں کی گئیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ایک صورت میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محض ایک اعلان کافی تھا کہ اس تمدنی عیب کو عرب کے لوگوں سے معدوم کر دے۔ مگر دوسری صورت میں امتناع شراب کے لئے قوانین بنائے گئے ۔ پولیس، فوج اور تی اور ٹیکس کے محکموں کے کارکنوں نے مل کر شراب نوشی کی لعنت کو دور کرنے کے لئے متحدہ طور پر کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے اور انہیں اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑا۔ شراب نوشی کی جیت رہی اور شراب نوشی کو دور نہ کیا جا سکا۔ ہمارے اس زمانہ کو ایک ترقی کا زمانہ کہتے ہیں مگر جب اس کا مقابلہ ابتدائے اسلام کے زمانہ سے کرتے ہیں تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ترقی کا زمانہ کون سا ہے ۔ ہمارا یہ زمانہ یا اسلام کا وہ زمانہ جس نے اس قدر بڑے تمدنی انقلاب کو پیدا کیا۔