سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 109

سيرة النبي علي صلى الله 94 جلد 7 ا شراب نوشی کی ممانعت کا حکم اور اُس کا بے نظیر اثر جنگ احد اور اس کے بعد کی جنگ صلى الله کے وقفہ کے درمیان دنیا نے اسلام کے اس اثر کی جو اس کا اپنے پیروؤں پر تھا ایک تین مثال دیکھی ۔ ہماری مراد امتناع شراب سے ہے۔ اسلام سے پہلے اہلِ عرب کی حالت کو بیان کرتے ہوئے ہم نے بتلایا تھا کہ اہلِ عرب عادی شراب خور تھے۔ ہر معزز عرب خاندان میں دن میں پانچ دفعہ شراب پی جاتی تھی اور شراب کے نشہ میں مدہوش ہو جانا اُن کے لئے معمولی بات تھی اور اس میں وہ ذرا شرم محسوس نہ کرتے تھے بلکہ وہ اس کو ایک اچھا کام سمجھتے تھے ۔ جب کوئی مہمان آتا تو گھر کی مالکہ کا فرض ہوتا کہ وہ شراب کا دور جاری کرے۔ اس قسم کے لوگوں سے ایسی تباہ کن عادت کو چھڑانا کوئی آسان بات نہ تھی ۔ مگر ہجرت کے چوتھے سال آنحضرت ﷺ پر حکم نازل ہوا کہ شراب حرام کی جاتی ہے ۔ اس حکم کا اعلان ہوتے ہی مسلمانوں نے شراب پینا بالکل ترک کر دیا۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب شراب کی حرمت کا الہام نازل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو بلایا اور حکم دیا کے اس نئے حکم کا اعلان مدینہ کی گلیوں میں کر دو ۔ ایک انصاری کے گھر میں جو مدینہ کا مسلمان تھا اُس دو۔ وقت شراب کی مجلس ہو رہی تھی ، بہت سے لوگ مدعو تھے اور شراب کا دور چل رہا تھا۔ ایک بڑا مٹکا خالی ہو چکا تھا اور ایک دوسرا مٹکا شروع کیا جانے والا تھا۔ لوگ مدہوش ہو چکے تھے اور بہت سے اور مدہوش ہونے کے قریب تھے ۔ اس حالت میں اُنہوں نے سنا کہ کوئی شخص اعلان کر رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت شراب پینا منع فرما دیا ہے ۔ اُن میں سے ایک شخص اٹھا اور بولا کہ یہ تو شراب کے امتناع کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ ٹھہر و معلوم کر لیں ۔اتنے میں ایک اور شخص اٹھا اور اُس نے مٹکے کو جو شراب سے بھرا ہوا تھا اپنی لاٹھی مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ر کہا پہلے حکم کی تعمیل کرو اور پھر دریافت کرو ۔ یہ کافی ہے کہ ہم نے ایسا اعلان سن لیا ہوا تو آ