سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 108

سيرة ة النبي علي صلى الله 93 جلد 7 بہت سے مسلمان مارے بھی گئے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے لیکن پھر بھی اُحد کی جنگ شکست نہیں کہلا سکتی ۔ جو واقعات میں نے اوپر بیان کئے ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑی فتح تھی ایسی فتح کہ قیامت تک مسلمان اس کو یاد کر کے اپنے ایمان کو بڑھا سکتے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے ۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے پھر اپنا اصل کام یعنی تربیت اور تعلیم اور اصلاح نفس کا شروع کر دیا۔ مگر آپ یہ کام سہولت اور آسانی سے نہیں کر سکے ۔ اُحد کے واقعہ کے بعد یہود میں اور بھی دلیری پیدا ہو گئی اور منافقوں نے اور بھی سر اٹھانا شروع کر دیا اور انہوں نے سمجھا شاید اسلام کو مٹا دینا انسانی طاقت کے اندرکی بات ہے۔ چنانچہ یہودیوں نے طرح طرح سے آپ کو تکلیفیں دینی شروع کر دیں ۔ گندے شعر بنا کر اُن میں آپ کی اور آپ کے خاندان کی ہتک کی جاتی تھی ۔ ایک دفعہ آپ کو کسی جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے یہودیوں کے قلعہ میں جانا پڑا تو اُنہوں نے تجویز کی جہاں آپ بیٹھے تھے اُس کے اوپر سے ایک بڑی سل گرا کر آپ کو شہید کر دیا جائے مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو وقت پر بتا دیا اور آپ وہاں سے بغیر کچھ کہنے کے چلے آئے 90 ۔ بعد میں یہودیوں نے اپنے قصور کو تسلیم کر لیا۔ مسلمان عورتوں کی بازاروں میں بے حرمتی کی جاتی تھی ۔ ایک دفعہ اس جھگڑے میں ایک مسلمان بھی مارا گیا ۔ ایک دفعہ ایک مسلمان لڑکی کا سر یہود نے پتھروں سے مار مار کر کچل دیا اور وہ تڑپ تڑپ کر مرگئی ۔ ان اسباب کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ بھی مسلمانوں کو جنگ کرنی پڑی۔ مگر عرب اور یہود کے دستور کے مطابق مسلمانوں نے اُن کو مارا نہیں بلکہ صرف مدینہ سے چلے جانے کی شرط پر انہیں چھوڑ دیا ۔ چنانچہ اُن دونوں قبیلوں میں سے ایک تو شام کی طرف ہجرت کر گیا اور دوسرے کا کچھ حصہ شام کو چلا گیا اور کچھ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف ۔ یہ شہر عرب میں یہود کا مرکز تھا اور زبردست قلعوں پر مشتمل تھا۔