سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 107

سيرة النبي علي الله 92 جلد 7 اس قسم کی فدائیت کی ایک اور مثال بھی تاریخوں میں ملتی ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہدا کو دفن کر کے مدینہ واپس گئے تو پھر عورتیں اور بچے شہر رکے مدینہ واپس گئے تو پھر عورتیں اور بچے شہر سے باہر استقبال کیلئے نکل آئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی باگ سعد بن معاذ مدینہ کے رئیس نے پکڑی ہوئی تھی اور فخر سے آگے آگے دوڑے جاتے تھے شاید دنیا کو یہ کہہ رہے تھے کہ دیکھا ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیریت سے اپنے گھر واپس لے آئے ۔ شہر کے پاس اُنہیں اپنی بڑھیا ماں جس کی نظر کمزور ہو چکی تھی آتی ہوئی ملی ۔ اُحد میں اُس کا ایک بیٹا عمرو بن معاذ بھی مارا گیا ۔ اُسے دیکھ کر سعد بن معاذ نے کہا يَا رَسُولَ الله ! امی ۔ اے اللہ کے رسول ! میری ماں آرہی ہے۔ آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ کی برکتوں کے ساتھ آئے ۔ بڑھیا آگے بڑھی اور اپنی کمزور پھٹی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نظر آجائے ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پہچان لیا اور خوش ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مائی ! مجھے تمہارے بیٹے کی شہادت پر تم سے ہمدردی ہے۔ اس پر نیک عورت نے کہا حضور ! جب میں نے آپ کو سلامت دیکھ لیا وو 66 تو سمجھو کہ میں نے مصیبت کو بھون کر کھا لیا ۔ " مصیبت کو بھون کر کھا لیا 89 ۔ کیا عجیب محاورہ ہے۔ محبت کے کتنے گہرے جذبات پر دلالت کرتا ہے غم انسان کو کھا جاتا ہے ۔ وہ عورت جس کے بڑھاپے میں اُس کا عصائے پیری ٹوٹ گیا کس بہادری سے کہتی ہے کہ میرے بیٹے کے غم نے مجھے کیا کھانا ہے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو میں اس غم کو کھا جاؤں گی ۔ میرے بیٹے کی موت مجھے مارنے کا موجب نہیں ہو گی بلکہ یہ خیال کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُس نے جان دی میری قوت کے بڑھانے کا موجب ہوگا ۔ اے انصار ! میری جان تم پر فدا ہو تم کتنا ثواب لے گئے ۔ - بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے مدینہ پہنچے۔ گو اس لڑائی میں