سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 106

سيرة النبي علي صلى الله 91 جلد 7 سے کیا ہوا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ غلط نہیں بلکہ عورتوں کے محاورہ کے مطابق بالکل درست ہے۔ عورت کے جذبات بہت تیز ہوتے ہیں اور وہ بسا اوقات مُردوں بالکل درست ہے کو زندہ سمجھ کر کلام کرتی ہے ۔ جیسے بعض عورتوں کے خاوند یا بیٹے مر جاتے ہیں تو اُن کی موت پر ان سے مخاطب ہو کر وہ اس قسم کی باتیں کرتی رہتی ہیں کہ مجھے کس پر چھوڑ چلے ہو؟ یا بیٹا ! اس بڑھاپے میں مجھ سے کیوں منہ موڑ لیا ؟ یہ شدت غم میں فطرت انسانی کا ایک نہایت لطیف مظاہرہ ہوتا ہے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر اُس عورت کا حال ہوا۔ وہ آپ کو فوت شدہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھی اور دوسری طرف اس خبر کی تردید بھی نہیں کر سکتی تھی اس لئے شدت غم میں یہ کہتی جاتی تھی ارے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کیا ۔ یعنی ایسا وفادار انسان ہم کو یہ صدمہ پہنچانے پر کیونکر راضی ہو گیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اُسے اپنے باپ، بھائی اور خاوند کی کوئی پرواہ نہیں تو وہ اس کے سچے جذبات کو سمجھ گئے اور اُنہوں نے کہا فلانے کی اماں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو جس طرح تو چاہتی ہے خدا کے فضل سے خیریت سے ہیں ۔ اس پر اس نے کہا مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا آگے چلی جاؤ وہ آگے کھڑے ہیں ۔ وہ عورت دوڑ کر آپ تک پہنچی اور آپ کے دامن کو پکڑ کر بولى يَا رَسُولَ الله! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جب آپ سلامت ہیں تو کوئی مرے مجھے کوئی پرواہ نہیں 88۔ مردوں نے جنگ میں وہ نمونہ ایمان کا دکھایا اور عورتوں نے یہ نمونہ اخلاص کا دکھایا جس کی مثال میں نے ابھی بیان کی ہے۔ عیسائی دنیا مریم مگر لینی اور اس کی ساتھی عورتوں کی اس بہادری پر خوش ہے کہ وہ مسیح کی قبر پر صبح کے وقت دشمنوں سے چھپ کر پہنچی تھیں ۔ میں اُن سے کہتا ہوں آؤ اور ذرا میرے محبوب کے مخلصوں اور فدائیوں کو دیکھو کہ کن حالتوں میں اُنہوں نے اُس کا ساتھ دیا اور کن حالتوں میں اُنہوں نے تو حید کے جھنڈے کو بلند کیا۔