سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 105

صلى الله سيرة ابي عليه 90 جلد 7 بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زخمیوں اور شہداء کو جمع کیا، زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی اور شہداء کے دفنانے کا انتظام کیا گیا۔ اُس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ ظالم کفار مکہ نے بعض مسلمان شہداء کے ناک کان بھی کاٹ دیئے ہیں ۔ چنانچہ یہ لوگ جن کے ناک کان کاٹے گئے تھے اُن میں خود آپ کے چچا حمزہ بھی تھے۔ آپ کو یہ نظارہ دیکھ کر افسوس ہوا اور آپ نے فرمایا کفار نے خود اپنے عمل سے اپنے لئے اُس بدلہ کو جائز بنا دیا ہے جس کو ہم نا جائز سمجھتے تھے ۔ مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ کفار جو کچھ کرتے ہیں اُن کو کرنے دو تم رحم اور انصاف کا دامن ہمیشہ تھامے رکھو 87 ۔ جنگ اُحد سے واپسی اور اہل مدینہ کے جذبات فدائیت جب اسلامی لشکر واپس مدینہ کی طرف لوٹا تو اُس وقت تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت اور اسلامی لشکر کی پراگندگی کی خبر مدینہ پہنچ چکی تھی۔ مدینہ کی عورتیں اور بچے دیوانہ وار اُحد کی طرف دوڑے جا رہے تھے۔ اکثر کو تو راستہ میں خبر مل گئی اور وہ رک گئے مگر بنو د ینار قبیلہ کی ایک عورت دیوانہ وار آگے بڑھتے ہوئے اُحد تک جا پہنچی ۔ جب وہ دیوانہ وار أحد کے میدان کی طرف جارہی تھی اُس عورت کا خاوند اور بھائی اور باپ اُحد میں مارے گئے تھے اور بعض روایتوں میں ہے کہ ایک بیٹا بھی مارا گیا تھا۔ جب اُسے اُس کے باپ کے مارے جانے کی خبر دی گئی تو اُس نے کہا مجھے یہ بتاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ چونکہ خبر دینے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مطمئن تھے وہ باری باری اُسے اس کے بھائی اور خاوند اور بیٹے کی موت کی خبر دیتے چلے گئے مگر وہ یہی کہتی چلی جاتی تھی مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم - ارے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کیا ؟ بظاہر یہ فقرہ غلط معلوم ہوتا ہے اور اسی وجہ سے مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اُس کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم