سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 104

صلى الله سيرة النبي علي 89 جلد 7 پیچھے ہٹ گیا تو آپ نے بعض صحابہؓ کو اس بات پر مامور فرمایا کہ وہ میدان میں جائیں اور زخمیوں کی خبر لیں ۔ ایک صحابی میدان میں تلاش کرتے کرتے ایک زخمی انصاری ۔ میں کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو اُن کی حالت خطر ناک تھی اور وہ جان توڑ رہے تھے۔ یہ صحابی اُن کے پاس پہنچے اور اُنہیں اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ کہا۔ اُنہوں نے کانپتا ہوا ہاتھ مصافحہ کے لئے اٹھایا اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر کہا میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی بھائی مجھے مل جائے۔ اُنہوں نے اس صحابی سے پوچھا کہ آپ کی حالت تو خطرناک معلوم ہوتی ہے کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ دار کو دینا چاہتے ہیں؟ اُس مرنے والے صحابی نے کہا ہاں ! ہاں ! میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اور اُنہیں کہنا کہ میں تو مر رہا ہوں مگر اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تم میں چھوڑے جا رہا ہوں ۔ اے میرے بھائیو اور رشتہ دارو! وہ خدا کا سچا رسول ہے میں امید کرتا ہوں کہ تم اس کی حفاظت میں اپنی جانیں دینے سے دریغ نہیں کرو گے اور میری اس وصیت کو کو یا درکھو گے 86۔ یا مرنے والے انسان کے دل میں ہزاروں پیغام اپنے رشتہ داروں کو پہنچانے کے لئے پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اتنے بے نفس ہو چکے تھے کہ نہ اُنہیں اپنے بیٹے یاد تھے، نہ بیویاں یاد تھیں، نہ مال یاد تھا، نہ جائیدادیں یاد تھیں اُنہیں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی یا درہتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ دنیا کی نجات اس شخص کے ساتھ ہے۔ ہمارے مرنے کے بعد اگر ہماری اولا دیں زندہ رہیں تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتیں لیکن اگر اس نجات دہندہ کی حفاظت میں اُنہوں نے اپنی جانیں دے دیں تو گو ہمارے اپنے خاندان مٹ جائیں گے مگر دنیا زندہ ہو جائے گی۔ شیطان کے پنجہ میں پھنسا ہوا انسان پھر نجات پا جائے گا اور ہمارے خاندانوں کی زندگی سے ہزاروں گنے زیادہ قیمتی بنو آدم کی زندگی اور نجات ہے۔