سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 103

سيرة النبي علي صلى الله 88 جلد 7 لوگ جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ الله ! ہم کیا کہیں؟ فرمایا کہو اللَّهُ أَعْلَى وَاجَلُّ - اللَّهُ أَعْلَى وَاجَلُّ 85 - تم جھوٹ بولتے ہو کہ ہبل کی شان بلند ہوئی ۔ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیک ہی معزز ہے اور اُس کی شان بالا ہے اور اس طرح آپ نے اپنے زندہ ہونے کی خبر دشمنوں تک پہنچا دی۔ اس دلیرانہ اور بہادرانہ جواب کا اثر کفار کے لشکر پر اتنا گہرا پڑا کہ باوجود اس کے کہ اُن کی امیدیں اس جواب سے خاک میں مل گئیں اور باوجود اس کے کہ اُن کے سامنے مٹھی بھر زخمی مسلمان کھڑے ہوئے تھے جن پر حملہ کر کے اُن کو مار دینا مادی قوانین کے لحاظ سے بالکل ممکن تھا وہ دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے اور جس قدر فتح اُن کو نصیب ہوئی تھی اُسی کی خوشیاں مناتے ہوئے مکہ کو واپس چلے گئے ۔ اُحد کی جنگ میں بظاہر فتح کے بعد ایک شکست کا پہلو پیدا ہوا مگر یہ جنگ در حقیقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک بہت بڑا نشان تھا۔ اس جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں کو پہلے کامیابی نصیب ہوئی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے عزیز چچا حمزہ لڑائی میں مارے گئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق شروع حملہ میں کفار کے لشکر کا علمبردار مارا گیا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق خود آپ بھی زخمی ہوئے اور بہت سے صحابہ شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کو ایسے اخلاص اور ایمان کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا جس کی مثال تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی ۔ چند واقعات تو اس اخلاص اور ایمان کے مظاہرہ کے پہلے بیان ہو چکے ہیں ایک اور واقعہ بھی بیان کرنے کے قابل ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے صحابہ کے دلوں میں کتنا پختہ ایمان پیدا کر دیا تھا۔ جب رسول کریم کر ہے صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہؓ کی معیت میں پہاڑ کے دامن کی طرف چلے گئے اور دشمن