سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 116

ة سيرة النبي علي صلى الله 101 جلد 7 تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا ۔ جبار کہا کرتا تھا کہ عامر کا قتل ہی میرے مسلمان ہونے کا موجب ہوا تھا۔ جبار کہتا ہے جب میں عامر کو قتل کرنے لگا تو میں نے عامر کو یہ کہتے سنا ہتے سنا فُرْتُ وَاللهِ - خدا کی قسم ! میں نے اپنی مراد کو پالیا۔ اس کے بعد میں نے ایک شخص سے پوچھا۔ جب مسلمان کو موت کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ایسی باتیں کیوں کرتا ہے؟ اُس شخص نے جواب دیا کہ مسلمان اللہ کی راہ میں موت کو نعمت اور فتح سمجھتا ہے۔ جبار پر اس جواب کا ایسا اثر ہوا کہ اُس نے اسلام کا باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا اور بالآخر مسلمان ہو گیا 97 ۔ ان دو اندوہناک واقعات کی خبر جس میں قریباً 80 مسلمان ایک شرارت آمیز سازش کے نتیجے میں شہید ہو گئے فوراً مدینہ پہنچ گئی ۔ مقتولین کوئی معمولی آدمی نہ تھے بلکہ حفاظ قرآن تھے۔ وہ کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تھے نہ اُنہوں نے کسی کو دکھ دیا تھا۔ وہ کسی جنگ میں بھی شریک نہیں تھے بلکہ اللہ اور مذہب کا جھوٹا واسطہ دے کر ان کو دھوکا سے دشمن کے تصرف میں دے دیا گیا تھا۔ ان واقعات سے بلا شک و شبہ ثابت ہوتا ہے کہ کفار کو اسلام سے سخت دشمنی تھی ۔ اس کے بالمقابل اسلام کے حق میں مسلمانوں کا جوش بھی نہایت گہرا اور پائیدار تھا تھا۔ ۔ غزوہ بنی مصطلق جنگِ اُحد کے بعد مکہ میں سخت قحط پڑا۔ مکہ والوں کو جو دشمنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اور جو تدابیر وہ آپ کے ۔ برخلاف لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی ملک بھر میں کر رہے تھے، بالکل نظر انداز کر کے آنحضرت ﷺ نے اس سخت مصیبت کے وقت میں مکہ کے غرباء کی امداد کے لئے ایک رقم جمع کی مگر اس خیر خواہی کا بھی اہلِ مکہ پر کچھ اثر نہ ہوا اور اُن کی دشمنی میں کوئی فرق نہ آیا بلکہ وہ دشمنی میں اور بھی بڑھ گئے ۔ ایسے قبائل بھی جو پہلے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کرتے تھے دشمن بن گئے ۔ ان قبائل میں سے ایک قبیلہ ۔ بنی مصطلق کا تھا۔ اُن کے تعلقات مسلمانوں کے ساتھ اچھے تھے مگر اب اُنہوں نے