مسیحی انفاس — Page 67
५८ کیونکر ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی میں چار فوق العادت خصوصیتیں قبول کر لیں ہوں ۔ - ☆ ضمیمہ براہین احمدیہ ۔ حصہ پنج پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۷، ۳۹۸ ۵۷ مریم کا صدیقہ نام رکھنا اس غرض سے نہیں تھا کہ وہ دوسری تمام پاک دامن اور صالحہ عورتوں سے افضل تھی بلکہ اس نام کے رکھنے میں یہودیوں کے اعتراض کا ذب مسیح کی پیدائش بھی کوئی اور دفع مقصود تھا۔ اسی طرح احادیث میں جو لکھا گیا کہ عیسی اور اس کی ماں میں میامر میں میری جاں شیطان سے پاک تھے۔ اس قول کے یہ معنے نہیں کہ دوسرے نبی میں شیطان سے سے ان کی خدائی کا اس قول کے یہ معنی نہیں پاک نہیں تھے۔ بلکہ غرض یہ تھی کہ نعوذ بللہ جو حضرت مسیح پر ولادت ناجائز کا الزام لگایا استقبال ہو سکے ۔ گیا تھا اور حضرت مریم کو نا پاک عورت قرار دیا گیا تھا۔ اس تکلمہ میں اس کارد مقصود ہے۔ ایسا ہی حضرت مسیح کی پیدائش کوئی ایسا امر نہیں ہے۔ جس سے ان کی خدائی مستنبط ہو سکے۔ اسی دھوکہ کے دور کرنے کے لئے قرآن شریف اور انجیل میں حضرت عیسیٰ اور یحییٰ کی ولادت کا قصہ ایک ہی جگہ بیان کیا گیا ہے۔ تا پڑہنے والا سمجھ ی ولاد لے کہ دونوں ولاد تیں اگر چہ بطور خارق عادت ہیں۔ لیکن ان سے کوئی خدا نہیں بن پیدائش کے حال سے سکتا۔ ورنہ چاہئے کہ بیٹی بھی جس کا عیسائی یوحنا نام رکھتے ہیں خدا ہو ۔ بلکہ یہ دونوں حضرت بچی کا نشان امر اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبوت اسرائیلی خاندان میں سے جاتی رہے گی۔ یعنی بہت صاف رہا۔ جبکہ یسوع مسیح کا باپ بنی اسرائیل میں سے نہ ہوا۔ اور یحییٰ کی ماں اور باپ اس لائق نہ ☆ خصوصیت ۔۔۔۔ که وه مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے کوئی دوسرا انسان ان کا شریک نہیں ۔ دوسری یہ خصوصیت کہ صد ہا سال تک بغیر آب و دانہ کے آسمان پر زندہ رہنے والے ٹھہرے جس میں ان کا کوئی دوسرا انسان شریک نہیں۔ تیسری یہ خصوصیت که آسمان پر اتنی مدت پیرانہ سالی اور ضعف سے محفوظ رہنے والے وہی ٹھہرے جس میں ان کا کوئی آدمی شریک نہیں۔ چوتھی یہ خصوصیت ۔۔۔ کہ مدت دراز کے بعد آسمان سے مع ملائک نازل ہونے والے وہی ٹھہرے جس میں ان کا ایک بشر بھی شریک نہیں۔ ضمیمہ براہین احمدیہ ۔ حصہ پنجم ۔ روح پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۹۵