مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 632

مسیحی انفاس — Page 50

۵۰ ۳۴ ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھاتا اور سے قریباً نو ماہ پورے کر کے سیر ڈیڑھ سیر کے وزن پر عورتوں کی پیشاب گاہ ۔ روتا چلا تا پیدا ہو جاتا ہے۔ اور روٹی کھاتا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دکھ اس فانی زندگی کے اٹھاتا ہے اور آخر چند ساعت جان کندنی کا عذاب اٹھا کر اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام امور نقصان اور منقصت میں داخل ہیں۔ اور اس کے جلال قدیم اور شمال تام کے بر خلاف ہیں۔ معیار المذاہب - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۸۹،۴۸۸ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۸ نیز دیکھیں حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۷۹ اب دوسرا مذہب یعنی عیسائی باقی ہے۔ جس کے حامی نہایت زور و شور سے اپنے خدا کو جس کا نام انہوں نے یسوع مسیح رکھا ہوا ہے۔ بڑے مبالغہ سے سچا خدا سمجھتے حضرت مسیح کی خستہ تے ہیں۔ اور عیسائیوں کے خدا کا یہ یہ ہے کہ وہ ایک اسرائیلی آدمی مریم بنت یعقوب کا بیٹا حالت اور ایک پہلو بابا سے موازنہ ا ہے جو ۲ برس کی عمر پا کر اس دار الفنا سے گذر گیا۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ کیونکر وہ گرفتار ہونے کے وقت ساری رات دعا کر کے پھر بھی اپنے مطلب سے نامراد رہا۔ اور ذلت کے ساتھ پکڑا گیا اور بقول عیسائیوں کے سولی پر کھینچا گیا۔ اور ایلی ایلی کرتا مر گیا تو ہمیں یک دفعہ بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ کہ برترز کیا ایسے انسان کو جس کی دعا بھی جناب الہی میں قبول نہ ہو سکی اور نہایت ناکافی اور نامرادی سے ماریں کھاتا کھاتا مر گیا۔ قادر خدا کہہ سکتے ہیں۔ ذرا اس وقت کے نظارہ کو آنکھوں کے سامنے لاؤ۔ جب کہ یسوع مسیح حوالات میں ہو کر پلاطوس کی عدالت سے ہیر و دوس کی طرف بھیجا گیا کیا یہ خدائی کی شان ہے کہ حوالات میں ہو کر ہتکڑی ہاتھ میں زنجیر پیروں میں چند سپاہیوں کی حراست میں چالان ہو کر جھڑکیاں کھاتا ہوا گلیل کی طرف روانہ ہوا ۔ اور اس حالت پر ملالت میں ایک حوالات سے دوسری حوالات میں پہنچا۔ پلاطوس نے کرامت دیکھنے پر چھوڑنا چاہا۔ اس وقت کوئی کرامت دکھلا نہ سکا۔ ناچار پھر حراست میں واپس کر کے یہودیوں کے حوالہ کیا گیا۔ اور انہوں نے ایک دم میں اس کی جان کا قصہ تمام کر دیا۔ اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا اصلی حقیقی خدا کی یہی علامتیں ہوا کرتی ہیں۔ کیا کوئی پاک کا نشنس اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ جو زمین و آسمان کا خالق