مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 632

مسیحی انفاس — Page 49

۴۹ افسوس که تمام مخالف مذہب والوں نے خدا تعالیٰ کے وسیع دریائے قدرت اور رحمت اور تقدس کو اپنی تنگ دلی کی وجہ سے زبر دستی روکنا چاہا ہے اور انہی وجوہ سے ان کے فرضی خداوں پر کمزوری اور ناپاکی اور بناوٹ اور بے جا غضب اور بے جا حکومت کے طرح طرح کے داغ لگ گئے ہیں لیکن اسلام نے خدا تعالیٰ کی صفات کاملہ کی تیز رو دھاروں کو کہیں نہیں روکا۔ وہ آریوں کی طرح اس عقیدہ کی تعلیم نہیں دیتا کہ زمین و آسمان کی روحیں اور ذرات اجسام اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں اور جس کا پر میشر نام ہے۔ وہ کسی نامعلوم سبب سے محض ایک راجہ کے طور پر ان پر حکمران ہے اور نہ یران عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھلاتا ہے کہ خدا نے ایک انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نو مہینہ تک خون حیض کھا کر ۔ خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں جیسے خسرہ چچک دانتوں کی تکالیف وغیرہ تکلیفیں وہ سب اٹھائیں۔ اور بہت ساحصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آگئی۔ مگر صرف دعوی ہی دعوی چونکہ صرف دعوی ہی دعوی تھا اور خدائی طاقتیں ساتھ نہیں تھیں۔ اس لئے دعوی کے ہے خدائی طاقتیں ساتھ ہی پکڑا گیا۔ بلکہ ان سب نقصانوں اور ناپاک حالتوں سے خدائے حقیقی ذو الجلال کو ساتھ ہیں۔ منزہ اور پاک سمجھتا ہے۔ اور اس وحشیانہ غضب سے بھی اس کی ذات کو برتر قرار دیتا ہے کہ جب تک کسی کے گلے میں پھانسی کا رستہ نہ ڈالے ۔ تب تک اپنے بندوں کے بخشنے کے لئے کوئی سبیل اس کو یاد نہ آوے۔ اور خدا تعالیٰ کے وجود اور صفات کے بارہ میں قرآن کریم یہ بچی اور پاک اور کامل معرفت سکھاتا ہے کہ اس کی قدرت اور رحمت اور عظمت اور تقدس بے انتہا ہے۔ اور یہ کہنا قرآنی تعلیم کے رو سے سخت مگر وہ گناہ ہے کہ رویے خدا تعالیٰ کی قدر تیں اور عظمتیں اور رحمتیں ایک حد پر جا کر ٹھہر جاتی ہیں یا کسی موقعہ پر پہنچ کر اس کا ضعف اسے مانع آ جاتا ہے بلکہ اس کی تمام قدر تیں اس مستحکم قاعدہ پر چل رہی ہیں۔ کہ باستثنا ان امور کے جو اس کے تقدس اور کمال اور صفات کاملہ کے مخالف ہیں یا کے کے سکتا یہ اس کے مواعید غیر متبدلہ کے منافی ہیں باقی جو چاہتا ہے کر سکتا ہے۔ مثلاً یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے اپنے تئیں ہلاک کر سکتا ہے۔ کیونکہ یہ بات اس کی صفت قدیم حی و قیوم ہونے کے مخالف ہے۔ وجہ یہ کہ وہ پہلے ہی اپنے فعل اور قول میں ظاہر کر چکا ہے کہ وہ ازلی ابدی اور غیر فانی ہے اور موت اس پر جائز نہیں۔ ایسا