مسیحی انفاس — Page 46
۴۴ عیسائیوں سے پہلے یہودی یعنی بعض یہودی بھی عزیز کو ابن اللہ قرار دے چکے اور نہ صرف وہی بلکہ مقدم زمانہ کے کافر بھی اپنے پیشواؤں اور اماموں کو یہی منصب دے چکے پھر ان کے پاس اس بات پر کیا دلیل ہے کہ وہ لوگ اپنے اماموں کو خدا ٹھہرانے میں جھوٹے تھے اور یہ سچے ہیں ۔ اور پھر اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ یہی خرابیاں دنیا میں پڑ گئی تھیں جن کی اصلاح کے لئے اس رسول کو بھیجا گیا تا کامل تعلیم کے ساتھ ان خرابیوں کو دور کرے۔ کیونکہ اگر یہودیوں کے ہاتھ میں کوئی کامل تعلیم ہوتی ۔ تو وہ بر خلاف توریت کے اپنے عالموں اور درویشوں کو ہر گز خدا نہ ٹھراتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ کامل تعلیم کے محتاج تھے۔ جیسا کہ حضرت مسیح نے بھی اس بات کا اقرار کیا کہ ابھی بہت سی باتیں تعلیم تعلیم کی باقی ہیں کہ تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے یعنی جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں سیاری سچائی کی راہ بتادے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن وہ جو کچھ سنے گی وہ کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔ حضرات عیسائی صاحبان اس جگہ روح حق سے روح القدس مراد لیتے ہیں اور اس طرف توجہ نہیں فرماتے کہ روح القدس تو ان کے اصول کے موافق خدا ہے تو پھر وہ کس سے سنے گا۔ حالانکہ لفظ پیش گوئی کے یہ ہیں کہ جو کچھ وہ سنے گی وہ کہے گی۔ اب پھر ہم اس پہلے مضمون کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ ڈپٹی صاحب موصوف نے تو حضرت مسیح کے خدا ہونے پر کوئی ر کوئی معقولی دلیل انجیل سے پیش نہ کی۔ لیکن ہم ایک اور دلیل قرآن کریم سے پیش کر دیتے ہیں کہ اللہ جل شانہ، فرماتا ہے ۔ الله الذي خلقكم شم رزقكم ثم يميتكم ثم يحييكم هل من شركاتكم من يفعل من ذلكم من شيء سبحانه و تعالى عما يشركون (یاره کون) یعنی اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہیں رزق دیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے معبودوں میں سے جو انسانوں میں سے ہیں کوئی ایسا کر سکتا ہے ۔ پاک ہے خدا ان بہتانوں سے جو مشرک لوگ ان پر لگا رہے ہیں۔ پھر فرماتا مسیح خدا ہیں تو ان کی ہے۔ ام جعلوا الله شرکاء خلقو الخلقه فتشابه الخلق الوبيت كا ثبوت عليهم ۔ قل الله خالق كل شي وهو الواحد القهار ۔ صفات خالیت دیں۔ کیا انہوں نے خدا تعالیٰ کے شریک ایسی صفات کے ٹھہرار رکھے ہیں کہ جیسے خدا خالق ہے وہ بھی خالق ہیں تا اس دلیل سے انہوں نے ان کو خدامان لیا۔ ان کو کہہ دے کہ ثابت شدہ