مسیحی انفاس — Page 480
کی شکل میں ہمیشہ رہے گا جس کا نام ابن اللہ ہے۔ دوسرے وہ جسم جو کبوتر کی طرح ہمیشہ رہے گا۔ جس کا نام روح القدس ہے ۔ تیسرے وہ جسم جس کے رہنے ہاتھ بیٹا جا بیٹھا ہے۔ وہ ہے۔ اب کوئی عظمند ان اجسام ثلاثہ کو کیونکر قبول کرے ۔ لیکن شیطان کی ہمراہی کا الزام یورپین فلاسفروں کے نزدیک کچھ کم ہنسی کا باعث نہیں۔ بہت کوششوں کے بعد یہ تاویلیں پیش ہوتی ہیں۔ کہ یہ حالات یسوع کے دماغی قومی کے اپنے تخیلات تھے اور اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ تندرستی اور صحت کی حالت میں ایسے مکرہ تخیلات پیدا نہیں ہو سکتے۔ بہتوں کو اس بات کی ذاتی تحقیقات ہے کہ مرگی کی بیماری کے مبتلا اکثر شیاطین کو اسی طرح دیکھا کرتے ہیں ۔ وہ بعینہ ایسا ہی بیان کیا کرتے ہیں کہ ہمیں شیطان فلاں فلاں جگہ لے گیا اور یہ یہ عجائبات دکھلائے۔ غرض یسوع کا یہ واقعہ شیطان کے ہمراہ کا مرض صرع پر صاف دلیل ہے اور ہمارے پاس کئی وجوہ ہیں جن کے مفضل لکھنے کی ابھی ضرورت نہیں اور یقین ہے کہ محقق عیسائی جو پہلے ہی ہماری اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں، انکار نہیں کریں گے اور جو نادان پادری انکار کریں تو ان کو اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ یسوع کا شیطان کے ہمراہ جانا در حقیقت بیداری کا ایک واقع ہے ۔ اور صرع وغیرہ کے لحوق کا نتیجہ نہیں مگر ثبوت میں معتبر گواہ پیش کرنے چاہئیں جو رویت کی گواہی دیتے ہوں اور معلوم ہوتا ہے کہ کبوتر کا اترنا اور یہ کہنا کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے در حقیقت یہ بھی ایک مرگی کا دورہ تھا ۔ جس کے ساتھ ایسے تخیلات پیدا ہوئے۔ اور ایک مرتبہ یسوع کے چاروں حقیقی بھائیوں نے اس وقت کی گورنمنٹ میں درخواست بھی دی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہو گیا ہے اس کا کوئی بندوبست کیا جائے یعنی عدالت کے جیل خانہ میں داخل کیا جاوے تاکہ وہاں دستور کے موافق اس کا علاج ہو تو یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔ معیارا المذاہب۔ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۸۱ تا ۴۸۴ حاشیه حضرت مسیح ایک انجیر کی طرف دوڑے گئے تا اس کا پھل کھائیں اور روح القدس سوال یہ ہے کہ شیطان کو کس کس نے یسوع کے ساتھ دیکھا تھا۔ منہ ۴۸۰ ١٣٣٣